تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 444 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 444

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 436 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال جماعت کو رخصت کیا اور السلام علیکم اور خدا حافظ کے نعروں سے فضا گونجی۔جہاز ایک چھوٹی دخانی کشتی کے ذریعہ حرکت دیا جارہا تھا۔جماعت کے دوست کنارے پر کھڑے تھے اور حضور دل میں دعا کر رہے تھے۔پھر یکا یک آپ کو جوش آیا اور پر نم آنکھوں کے ساتھ آپ نے پھر جماعت کے لئے نہایت کرب و اضطراب کے ساتھ لمبی دعا کی۔اب جہاز حرکت میں آچکا تھا اور دوست بڑی تیزی سے نظر سے اوجھل ہو رہے تھے مگر حضور کی شفقت و محبت کا ایک عجیب عالم دیکھنے میں آیا یعنی جہاز کا جو حصہ بھی دوستوں کے قریب ہو تا حضور بھی دوڑ کر اسی طرف تشریف لے جاتے کبھی اس سرے کبھی دوسرے اور کبھی وسط میں اور دوستوں کے لئے قریب جاکر پھر دعا شروع کر دیتے اس وقت بارش ہو رہی تھی اور آپ کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے مگر اپنے خدام سے دلی الفت و محبت کی چنگاری آپ کو بے قرار کئے ہوئے تھی۔غرض کہ حضور اسی طرح جہاز کے چاروں طرف نہایت بے تابی سے گھومتے رہے حتی کہ سب دوست آنکھوں سے بالکل غائب ہو گئے جہاز کا یہ پہلا دن تھا اسی دن سے حضور اور حضور کے رفقاء کی طبیعت سمندری مرض (Sea Sickness) سے سخت ہونے لگی۔پھر کئی روز تک سمندر میں ایسا شدت کا تلاطم بر پا رہا کہ اس نے حالت اور زیادہ تشویشناک کر دی۔سمندر کی طوفانی حالت ایسی مخدوش تھی کہ جہاز کی رفتار بہت ہی کم کر دینی پڑی اور عملہ جہاز بھی بیمار ہو گیا۔خود حضور پر جہازی بیماری کے اثر کے ساتھ سردرد اور بخار کا حملہ ہوا اور متلی کی شکایت بھی تھی لیکن حضور اپنی تکلیف بھولے ہوئے تھے اور اپنے خدام ہی کے فکر میں تھے۔حضور ہر ایک کی عیادت فرماتے اور ہر طرح تسلی دیتے اور دلجوئی فرماتے تھے اور کبھی کبھی احباب کا دل بہلانے اور غم غلط کرنے کے لئے مولوی عبدالرحیم صاحب درد، خان صاحب ذو الفقار علی خان صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب سے نظمیں سنتے۔خاص طور پر حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی الوادعی نظم تو بار بار پڑھی گئی۔اس موقعہ پر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور چوہدری علی محمد صاحب نے ایثار نفس کا بہت عمدہ نمونہ دکھایا اور اپنا آرام قربان کر کے اپنے بیمار بھائیوں کو آرام پہنچایا۔وگر نہ جہاز میں تو ہر جگہ نفسی نفسی کا معاملہ تھا۔دوسروں کی خدمت کا جذ بہ صرف انہی بزرگوں میں نظر آتا تھا۔حضرت خلیفتہ ا فة المسیح الثانی کو اس سفر میں سب سے بڑی فکر اور تشویش جس نے آپ کو دن رات متفکر کر رکھا تھا صرف یہ تھی کہ یورپ کے تمدن اور اس کی دماغی ترقی کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔چنانچہ