تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 17
تاریخ احمدیت جلد ۴ 17 سید نا حضرت خلیفہ آسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت ذیل اہم بیان کافی روشنی ڈالتا ہے۔حضرت سیدہ موصوفہ تحریر فرماتی ہیں۔”اصولی تربیت میں میں نے اس عمر تک بہت مطالعہ عام و خاص لوگوں کا کر کے بھی حضرت والدہ صاحبہ (ام المومنین رضی اللہ عنہا۔ناقل) سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔آپ نے دنیوی تعلیم نہیں پائی (بجز معمولی اردو خواندگی کے) مگر جو آپ کے اصول اخلاق و تربیت ہیں ان کو دیکھ کر میں نے یہی سمجھا ہے کہ خاص خدا کا فضل اور خدا کے مسیح کی تربیت کے سوا اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سب کہاں سے سیکھا؟ بچے پر ہمیشہ اعتبار اور بہت پختہ اعتبار ظاہر کر کے اس کو والدین کے اعتبار کی شرم اور لاج ڈال دینا یہ آپ کا بڑا اصول تربیت ہے۔جھوٹ سے نفرت اور غیرت رغنا آپ کا اول سبق ہو تا تھا۔ہم لوگوں سے بھی آپ ہمیشہ یہی فرماتی رہیں کہ بچہ میں یہ عادت ڈالو کہ وہ کہنا مان لے۔پھر بے شک بچپن کی شرارت بھی آئے تو کوئی ڈر نہیں۔جس وقت بھی روکا جائے گا باز آجائے گا۔اور اصلاح ہو جائے گی۔فرمائیں کہ اگر ایک بار تم نے کہنا ماننے کی پختہ عادت ڈال دی۔تو پھر ہمیشہ اصلاح کی امید ہے یہی آپ نے ہم لوگوں کو سکھا رکھا تھا۔اور کبھی ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا۔کہ ہم والدین کی عدم موجودگی کی حالت میں بھی ان کے منشاء کے خلاف کر سکتے ہیں۔حضرت ام المومنین ہمیشہ فرماتی تھیں کہ ”میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے۔" اور یہی اعتبار تھا جو ہم کو جھوٹ سے بچا تا بلکہ زیادہ متنفر کرتا تھا۔مجھے آپ کا سختی کرنا کبھی یاد نہیں۔پھر بھی آپ کا ایک خاص رعب تھا اور ہم بہ نسبت آپ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دنیا کے عام قاعدہ کے خلاف بہت زیادہ بے تکلف تھے۔اور مجھے یاد ہے کہ حضور اقدس سے حضرت والدہ صاحبہ کی بے حد محبت و قدر کی وجہ سے آپ کی قدر میرے دل میں اور بھی بڑھا کرتی تھی۔بچوں کی تربیت کے متعلق ایک اصول آپ یہ بھی بیان فرمایا کرتی تھیں کہ ” پہلے بچے کی تربیت پر اپنا پورا زور لگاؤ۔دوسرے ان کا نمونہ دیکھ کر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے"۔پاکیزہ بچپن پر ایک عمومی نوٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کے حسن تربیت ہی کا فیض تھا کہ حضرت صاجزادہ مرزا محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ جو فطرنا آسمانی نوروں سے حصہ وافر لے کر آئے تھے ابتدا ہی سے نہایت درجہ پاک و مطہر تھے اور آپ کا بچپن اپنے ہم عمر تمام بچوں سے بالکل نرالا رنگ رکھتا تھا۔