تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 16 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 16

تاریخ احمد بیت۔جلد ۴ 16 سید نا حضرت خلیفۃالمسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت ہوئے میاں بشیر احمد صاحب سے یوں مخاطب ہوئے۔محمود احمد بشیر تم بتلا سکتے ہو کہ علم اچھا ہے یا دولت؟ میاں بشیر احمد صاحب نے تو کیا جواب دینا تھا۔امام الوقت سن کر فرمانے لگے۔۔۔۔بیٹا محمود اتو بہ کرد تو بہ کرو نہ علم اچھا ہے نہ دولت خدا کا فضل اچھا ہے"۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے لکھا ہے کہ ”ایک دفعہ میاں (یعنی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) دالان کے دروازے بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے کہ حضرت صاحب نے جمعہ کی نماز کے لئے باہر جاتے ہوئے ان کو دیکھ لیا اور فرمایا۔”میاں گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے۔جس میں رحم نہیں اس میں ایمان نہیں؟ مرزا محمد اسمعیل بیگ صاحب مرحوم کی روایت ہے کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام مع اصحاب۔۔سیر کو تشریف لے گئے۔راستہ کے ایک طرف کیکر کا ایک درخت گرا پڑا تھا۔بعض دوستوں نے اس کی شاخوں سے مسواکیں بنالیں۔حضور کے ساتھ غالبا حضرت خلیفہ ثانی بھی تھے۔چھوٹی عمر تھی ایک مسواک کسی نے آپ کو بھی دے دی اور انہوں نے بے تکلفی سے بچپن کی وجہ سے ایک دو دفعہ یہ بھی کہ دیا کہ ابا مسواک لے لیں مگر حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ پہلے ہمیں یہ بتلاؤ کہ کس کی اجازت سے یہ مسواکیں حاصل کی گئی ہیں۔یہ بات سنتے ہی سب نے مسواکیں زمین پر پھینک دیں" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو سنت نبوی کے مطابق خاص طور پر ہدایت کر رکھی تھی کہ گھر سے باہر نکلنے کے وقت ہاتھ میں چھڑی رکھا کریں۔اسی طرح مغرب کے بعد آپ کو گھر کی چار دیواری سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہ تھی۔جس کی ایک وجہ سید نا حضرت محمود خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے یہ بھی بیان فرمائی ہے۔اپنے بچوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مغرب کے بعد کبھی باہر نہیں نکلنے دیتے تھے کیونکہ آپ سمجھتے تھے لوگ دشمن ہیں ممکن ہے وہ بچوں پر حملہ کر دیں اور انہیں نقصان پہنچا ئیں مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے کبھی بھی مغرب کے بعد گھر سے نکلنے نہیں دیا اور اس کے بعد بھی آپ کی وفات تک میں اجازت لے کر مغرب کے بعد گھر سے جاتا " حضرت ام المومنین کی تربیت کے سنہری اصول اب رہا حضرت ام المومنین کے تربیت کرنے کا معاملہ سو آپ کے زریں اور قیمتی اصول اخلاق و تربیت پر حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ظلمها العالی کا مندرجہ