تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 416 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 416

تاریخ احمد میمت - جلد ۴ 408 خلافت ثانیہ کا دسواں سال اور احترام قائم نہ رکھا جائے تو مسلمانوں کو کوئی چیز جمع نہیں کر سکتی۔ہندوستانی اگر دوسرے بزرگوں کا احترام کرنے کے لئے تیار نہیں۔اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے پر ہی اکتفا کرنے کا فیصلہ کر لیں تو یہ بھی اتحاد کے لئے کافی ہے۔جیسا کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے بہت پہلے فرمایا تھا۔مگر افسوس ملک نے توجہ نہ کی نتیجہ یہ ہوا کہ آج تک اتحاد نہیں ہو سکا۔تیسرا اصول: اگر کوئی شخص کہے کہ ایسا ممکن نہیں تب بھی ہم اتفاق و اتحاد کے لئے تیار ہیں رطیکہ یہ اقرار کیا جائے کہ ہمارے بزرگوں کو گالیاں نہ دی جائیں اور خدا اور اس کے رسول اللہ کے خلاف بد زبانی کا سلسلہ بند کر دیا جائے۔اس صورت میں ضروری ہو گا کہ صرف مسلمہ اصولوں کی بناء پر اعتراض کیا جائے۔چوتھا اصول مذہبی لوگوں سے ان کا کوئی مسلمہ مذہبی اصل ترک کرنے کا مطالبہ نہ کیا جائے مثلاً ہندو مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ گائے کا گوشت کھانا چھوڑ دو مگر سوال یہ ہے کہ گائے اگر متبرک ہے تو ہندوؤں کے نزدیک ہے مسلمان اس کا گوشت کھانا کیوں چھوڑ دیں جب کہ ان کا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے۔پانچواں اصول: ہر قوم دوسری قوم کے حقوق تسلیم کرے۔عجیب بات ہے کہ ہندو یہ تو کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو سوراج لے کر دیں گے مگر مسلمانوں کو ان کے چھوٹے چھوٹے حقوق نہیں دینا چاہتے۔میرے نزدیک مسلم لیگ اور کانگریس نے ہندو مسلم حقوق کے متعلق جو سمجھوتہ کیا تھا وہ بھی ٹھیک نہ تھا جہاں مسلمانوں کی آبادی کم ہے وہاں تو ان کو کم حقوق دیئے ہی گئے ہیں لیکن جہاں ان کی آبادی نسبتا زیادہ ہے وہاں بھی آبادی کے تناسب سے پورے حقوق نہیں دیئے گئے۔اس لئے سب سے ضروری چیز حقوق کا صحیح تعین ہے۔چھٹا اصول: صلح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سب مجرموں کو بلا تمیز مذہب و ملت سزادی جائے اور جو فریق بھی قصور دار ہو اسے پکڑا جائے۔ساتواں اصول: آل انڈیا نیشنل کانگریس تب ہی سارے ملک کی نمائندہ بن سکتی ہے جبکہ خیالات کے اختلاف سے بے نیاز ہو کر ہر نقطہ نظر کے لوگوں کو اپنے اپنے خیالات پیش کرنے کا موقعہ دیا جائے ورنہ جب تک یہ کانگریس موجودہ شکل میں ہے اور اختلاف والوں کو نکالنے کی پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے اس وقت تک یہ پورے ملک کی کانگریس ہرگز نہیں کہلا سکتی۔لیکچر کے اختتام پر صدر جلسہ خان بہادر عبد القادر صاحب نے کہا۔" میں جناب مرزا صاحب کا