تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 417 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 417

409 خلافت همانیه کا دسواں سال شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایسی جامع اور پُر مغز تقریر فرمائی ہے۔انہوں نے فرمایا ہے کہ میں اپنا سارا وقت دینیات کے مطالعہ میں صرف کرتا ہوں مگر اس وقت آپ نے سیاسیات پر ایسی وسعت سے روشنی ڈالی ہے کہ زبان اور دل سے تحسین نکلتی ہے۔۔۔جناب مرزا صاحب نے اتفاق و اتحاد کے ہر پہلو پر نگاہ ڈالی ہے۔جس کی سیاسی لیڈروں سے توقع نہیں ہو سکتی نہ وہ اس طرح نگاہ ڈال سکتے ہیں کیونکہ وہ کسی (سیاسی) پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے اس لئے آپ نے نہایت آزادی اور وسعت سے ہر ۱۲۵ پہلو کو بیان فرمایا ہے "۔افسوس حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ان اہم اور بر وقت ہدایات پر اہل وطن نے کوئی توجہ نہ دی " بلکہ پیسہ اخبار " (لاہور) کے سوا ملک کے مسلمان پریس نے اس کا ذکر تک کر نا گوارا نہ کیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی اہم ہدایت ملکی شورش کی وجہ سے انگریزی حکومت قابل احمدی مصنفوں اور لیکچراروں کے لئے اعتراض تقریروں یا تحریروں پر نوٹس لے رہی تھی اور ہر جگہ مقدمات چلائے جارہے تھے اور ایک عصر مقدمہ میں گرفتار ہو کر جھٹ معافی مانگنا شروع کر دیتا تھا۔یہ حالات دیکھ کر حضور نے اپنی جماعت کے تمام مصنفوں اور لیکچراروں کے نام ایک خاص ہدایت جاری فرمائی۔کہ اول تو وہ اپنی تحریروں یا تقریروں میں ایسا رنگ ہی اختیار نہ کریں جس سے ملک میں فساد ہویا شورش پیدا ہو لیکن اگر باوجود ان کی احتیاط کے گورنمنٹ ان میں سے کسی پر کسی مصلحت سے کوئی مقدمہ چلائے تو میں ان سے امید کرتا ہوں کہ وہ مومنانہ غیرت کو کام میں لائیں گے اور بزدلی سے اجتناب کریں گے۔ہم گورنمنٹ کے لئے ہر ایک جائز بات کو اختیار کر سکتے ہیں لیکن بد اخلاقی کو نہیں اور بزدلی اور جھوٹ دو زبر دست بد اخلاقیاں ہیں پس جو شخص مقدمہ سے ڈر کر معافی مانگتا ہے جب کہ اس کا نفس یہ کہتا ہے کہ اس نے غلطی نہیں کی اور اپنے اس فعل سے اسلام کی ہتک کرتا ہے وہ دو گناہ کرتا ہے۔وہ بزدلی کا اظہار بھی کرتا ہے اور جھوٹ بھی بولتا ہے پھر لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بنتا جو شخص دیانتداری سے سمجھتا ہے کہ اس نے جو کچھ کہا یا لکھا ہے اس میں ہر گز کوئی بات خلاف واقعه یا خلاف تهذیب یا خلاف قانون یا بد نیتی سے نہیں کی تو اسے گورنمنٹ کے غضب سے بچنے کے لئے خدا کے غضب کو اپنے اوپر نہیں بھڑکانا چاہئے "۔اس کے ساتھ ہی حضور نے یقین دلایا کہ۔اگر کوئی شخص خدانخواستہ کسی ایسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے جس میں اس کا کوئی قصور نہیں اور وہ بہادری سے اپنے ایمان اور اپنی ضمیر کی پیروی کرے تو میں اور میرے ساتھ اخلاص رکھنے والی تمام