تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 400
تاریخ احمد بیت جلد ۴ کے خلاف ہو " 392 خلافت ثانیہ کا دسواں سال تار پہنچنے تک اتحاد کمیٹی کے ہندو اور مسلمان لیڈروں میں قطعی فیصلہ ہو چکا تھا کہ دونوں قومیں اپنے اپنے آدمی علاقہ ارتداد سے واپس بلا لیں۔اور صرف یہ سوال باقی رہ گیا کہ آریہ پہلے علاقہ خالی کریں یا مسلمان ، مسلمان لیڈروں نے مان لیا کہ ہمارے آدمی پہلے واپس آجا ئیں گے لیکن اب یہ اہم سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ احمدیوں کا کیا ہو گا۔اس پر شردھانند جی نے مسلمان لیڈروں سے کہا۔جناب! آپ لوگ کس خیال میں ہیں یہ تو سارا کھیل ہی احمدیوں کا ہے پس آپ انہیں الگ رکھ کر کس حیثیت میں سمجھوتہ کریں گے اور کیا سمجھوتہ کریں گے ؟ بعض مسلمان لیڈر اس سے پہلے نخوت کے رنگ میں احمدیوں کو دانستہ اس کمیٹی سے الگ کر کے اپنے طور پر سمجھوتہ کرنا چاہتے تھے۔مگر اس مرحلہ پر ان کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں مجبور احضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی خدمت میں درخواست کرنا پڑی کہ وہ اپنے نمائندے بھجوائیں چنانچہ سمجھوتہ کے خلاف احتجاجی تار ڈاک خانہ میں دینے کے معابعد حکیم اجمل خان صاحب، جناب محمد علی صاحب (جو ہیں اور ڈاکٹر انصاری صاحب کی طرف سے تار پہنچا کہ۔- " حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب قادیان بٹالہ۔ہماری پر زور درخواست ہے کہ آپ اپنے ذمہ دار قائم مقام کو جو آپ کے خیالات سے واقف ہو بھیجیں تاکہ شدھی اور اشدھی کی تحریکات کی وجہ سے جو فسادات پیدا ہو رہے ہیں ان کو روکنے کے لئے مشورہ کیا جائے " چنانچہ حضور کے حکم پر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم- چودھری فتح محمد صاحب سیال امیر وفد المجاہدین اور حضرت خان صاحب ذو الفقار علی صاحب (علی برادران کے بڑے بھائی) ۱۹/ ستمبر ۱۹۲۳ء کو دہلی پہنچے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مسلم لیڈروں کے نام اپنے نمائندوں کے ہاتھ ایک خط بھی بھیجوایا جس میں تحریر فرمایا۔" جہاں تک میں آپ کے تار سے مطلب سمجھ سکا ہوں ہدایات دے دی ہیں اگر کوئی ایسا سوال پیدا ہوا۔جس کے متعلق ان کو میری رائے معلوم نہ ہوئی تو مجھ سے دریافت کر کے آپ کو اطلاع دیں گے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہندو مسلم اتحادی نہیں بلکہ دنیا بھر کے اتحاد کے لئے ہماری جماعت بے چین ہے اور ہمارے عظیم مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دنیا میں سے تفرقہ اور اشتقاق مٹ جائے۔لیکن ہمارے نزدیک اس بات کو مد نظر رکھنا نہایت ضروری ہے کہ موجب اختلاف کو معلوم کر کے ایسے اسباب مہیا کئے جائیں جن سے دائی صلح اور آشتی پیدا ہو کر تمام اقوام عالم میں امن قائم