تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 396 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 396

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ خلافت ثانیه دسواں سال کی خبریں پڑھتے ہیں۔پھر تم کیسے کہتے ہو کہ شدھی اور اچھوت ادھار کی تحریک کامیاب نہیں ہوئی۔اس کے جواب میں میری عرض یہ ہے کہ کسی کو جھوٹا کہنے کی ضرورت نہیں۔پر میشور نے آپ کو آنکھیں دی ہیں کہ اس وقت ہندو سماج میں دوسرے دھرموں سے کتنے لوگ شدھ ہو کر آئے ہیں جن کی شدھی کی خبریں اخباروں میں جلی الفاظ میں چھپتی ہیں ان کی تعداد کم سے کم پانچ سو تو ہو گی مگر ان میں سے مجھے ہیں کے نام تو گن دیجئے۔جو آج بھی ہندو ہوں۔۔ملکانوں کی شدھی پر بڑا فخر کیا جاتا ہے۔تھی بھی وہ بڑی فخر کی بات مگر جو لوگ سچائی کو جانتے ہیں وہ بڑے متفکر ہیں۔مکانوں کی شدھی کی جو رپورٹ وقتاً فوقتاً اخبارات میں چھپتی رہی ہے اس کے بموجب شدھ ہونے والوں کی گنتی ڈھائی لاکھ سے کم نہیں پہنچی مگر ان لوگوں میں بہت سے تو اپنی پہلی حالت میں واپس چلے گئے اور باقی بیچ میں لٹکے ہوئے کسی ٹھو کر کی راہ دیکھ رہے ہیں "۔پروفیسر ریتم سنگھ ایم۔اے اپنی کتاب ”ہندو دھرم اور اصلاحی تحریکیں " میں لکھتے ہیں۔آریہ سماج نے شدھی یعنی ناپاک کو پاک کرنے کا طریقہ جاری کیا۔ایسا کرنے سے آریہ سماج کا مسلمانوں کے ایک تبلیغی گروہ یعنی قادیانی فرقہ سے تصادم ہو گیا۔آریہ سماج کہتی تھی کہ دید الہامی ہیں اور سب سے پہلا آسمانی صحیفہ ہیں۔اور مکمل گیان میں قادیانی کہتے تھے کہ قرآن شریف خدا کا کلام ہے اور حضرت محمد خاتم النبین ہیں۔اس کد و کاوش کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی عیسائی یا مسلمان اب مذہب کی خاطر آریہ سماج میں شامل نہیں ہو تا مذہب کی تبدیلی بے معنی سی ہو گئی ہے آریہ سماج کا تعلیمی کام اب تک جاری ہے۔۔مگر سماج کا تبلیغی کام تقریباً بند ہے۔۔۔آریہ سماج کی تحریک خاطر خواہ ترقی نہ کر سکی۔پرانے ہندو جو بت پرست اور مقلد تھے وہ ویسے کے ویسے ہی رہے اور کچھ انگریزی پڑھے لکھے لوگ جو سماج میں داخل ہوئے وہ مادیات میں پھنس کر د ہر یہ ہو گئے۔ان کی تو وہی حالت ہے۔ع نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم " AA شردھانند کی طرف سے تحریک شدھی سے دست برداری کا اعلان جب آریوں کو کئی مقامات پر پسپا ہونا پڑا تو شدھی کے بانی شردھانند نے ۱۹/ اگست ۱۹۲۳ء کو تمام مسلمانوں کو مباحثہ کا چیلنج دیا۔مقصد یہ تھا کہ مسلمان عملی میدان سے ہٹ کر براہ راست ان کی طرف متوجہ ہوں اور جہاں ہندو ان کی شخصیت و عظمت کے قائل ہوں وہان بھولی بھالی ملکانہ قوم پر رعب طاری ہو۔اس چیلنج میں انہوں نے گو احمد یہ جماعت کا نام نہیں لیا تھا مگر چونکہ اس دعوت میں سب مسلمانوں ہی کو خطاب تھا اس لئے جماعت احمدیہ کی طرف سے ناظر تالیف واشاعت نے فور امناظرہ کی