تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 395 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 395

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 387 خلافت ثانیه دسواں سال مشکل سے ملتا ہے۔ان کا ہر ایک مبلغ غریب ہو یا امیر بغیر مصارف سفر و طعام حاصل کئے میدان عمل میں گامزن ہے۔شدت کی گرمی اور لوؤں میں وہ اپنے امیر کی اطاعت میں کام کر رہے ہیں" Ar احمدی مبلغ جس جوش اور ولولہ سے فتنہ ارتداد کے انسداد میں مصروف ہیں ان کی تعریف و توصیف کرنے سے ہم باز نہیں رہ سکتے " AF الحمد للہ کہ احمدی مبلغوں کی کوششیں بار آور کامیاب مدافعت اور شاندار پیش قدمی ہو ئیں اور اللہ کے فضل و کرم سے شدھی کی رو میں زبردست کمی آگئی اور شدہ کئے ہوئے خاندان بڑی کثرت سے دوبارہ اسلام میں آنے لگے۔شورش انگیز اور تشدد آمیز کارروائیوں اور چیرہ دستیوں اور مخالف طاقتوں کی زبر دست شورش کے باوجود ہر طرف اسلام کی فتوحات کے دروازے کھل گئے۔ریاست بھرت پور کے کئی گاؤں شدھی سے تائب ہو کر پھر سے اسلامی لشکر میں آشامل ہوئے۔آنور کا قصبہ جس کے قریب سری کرشن جی کی پیدائش ہوئی اکثر و بیشتر مسلمان ہو گیا۔اسپار کے ایک بڑے حصہ نے اسلام قبول کر لیا۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے تحریر فرماتے ہیں۔AP AO دوران جنگ میں احمدیت کے جنگجو دستہ کے لئے بعض خطرے کے موقعے بھی پیش آئے جن میں بعض اوقات نعیم نے نازک حالات پیدا کر دیئے۔اور ایسا تو کئی دفعہ ہوا کہ احمدی والٹیر اپنی کوشش سے ایک شدھ شدہ گاؤں کو اسلام میں واپس لائے مگر ہندو دستہ نے پھر یورش کر کے اسے پھلا دیا۔مگر احمدیوں نے دوبارہ حملہ کر کے پھر دوسری دفعہ قلعہ سر کر لیا۔بعض دیہات نے کئی کئی دفعہ پہلو بدلا کیونکہ اس کشمکش کے دوران میں بعض ملکانہ دیہات میں کچھ لالچ بھی پیدا ہو گیا۔مگر بالآخر ایک ایک کر کے ہر ہندو مورچہ فتح کر لیا گیا اور خدا کے فضل سے شدھی کے مواج دریا نے پلٹا کھا کر اپنا راستہ بدل لیا۔بلکہ اس جدوجہد میں ایک حد تک ملکانہ راجپوتوں کی دینی تربیت بھی ہو گئی اور ان میں سے کم از کم ایک حصہ خدا کے فضل سے صرف نام کا مسلمان نہیں رہا۔بلکہ اسلام کی حقیقت کو سمجھنے والا اور اسلام کے احکام پر چلنے والا بن گیا"۔مجاہدین احمدیت کے ہاتھوں شدھی تحریک کو جس عبرتناک ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اس کا اقرار ہندوؤں اور سکھوں دونوں کی طرف سے برملا کیا گیا۔چنانچہ لالہ سنت رام بی۔اے سیکرٹری جات پات تو ڑک منڈل لاہور نے بیان دیا " الفاظ بہت کڑے ہیں اور سخت مایوسی سے بھرے ہوئے ہیں مگر یہ سچائی ہے چاہے کڑوی ہو۔بہت سے بھائی پوچھیں گے ہم اخباروں میں روز شدھی اور اچھوت ادھار