تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 364
تاریخ احمدیت جلد ۴ 356 خلافت ثانیہ کا دسواں سال چنانچہ ادھر یہ مجاہدین حالات کا جائزہ لے کر آگرہ میں پہنچے ادھر ۲۶/ اپریل ۱۹۲۳ء کو قادیان سے ہیں کی بجائے بائیں مجاہدین کا در سراوند آگیا۔اس وفد کے بعض افراد کے نام یہ ہیں۔حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی - چوہدری عبد السلام صاحب کاٹھ گڑھی۔جناب خواجہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل، جناب مولوی ظل الرحمن صاحب بنگالی منشی عبد الخالق صاحب کپور تھلوی۔منشی محمد الدین صاحب ملتانی (والد ماجد جناب شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ ) ہادی علی خان صاحب (برادر زادہ مولانا محمد علی شوکت علی شیخ محمد ابراہیم علی صاحب پسر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) اور حضرت سید عزیز الرحمن صاحب بریلوی - حضرت چوہدری صاحب رات کے ایک بجے تک اس وفد کو صورت حال سے آگاہ کرتے اور ہدایات دیتے رہے اور دوسرے ہی دن ۲۷ / مارچ ۱۹۲۳ء کو مختلف انسپکٹڑوں کی سرکردگی میں نئے مجاہدین کو مختلف اضلاع میں روانہ کر کے ہر طرف پھیلا دیا۔چنانچہ مولوی ظل الرحمن صاحب بنگالی بھوپت پور (ضلع ایٹہ) میں چوہدری عبد السلام صاحب کا ٹھ گڑھی متھرا کے گاؤں بھائی ہیں۔حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب متھرا کے دوسرے گاؤں آنور میں اور سید عزیز الرحمن صاحب ضلع فرخ آباد میں بھجوائے گئے۔میدان ارتداد میں تبلیغی جنگ کا ابتدائی نقشہ اس دوسرے وند کے پہنچے پر میدان ارتداد میں مدافعت کا ابتدائی نقشہ یہ ہو گیا امیر المجاہدین کے ساتھ صوفی محمد ابراہیم صاحب بی ایس سی اور خواجہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل نے آگرہ میں کام شروع کیا۔مولانا جلال الدین صاحب شمس آگرہ اور دوسرے علاقوں میں مانوں اور تقریروں کے لئے مقرر ہوئے۔ضلع آگرہ کے موضع کھڈوائی میں مولوی ظفر اسلام صاحب موضع سکرار میں منشی محمد دین صاحب اور ان کی نگرانی اور نئے حالات سے تبلیغی مرکز میں اطلاع دینے کی خدمت حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے سپرد ہوئی۔ضلع متھرا میں (جو اس وقت آریوں کا بھاری مرکز تھا) حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب ، حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ ، میاں خدا بخش صاحب مومن ، چوہدری بدر الدین صاحب چوھدری عبد السلام صاحب کا ٹھ گڑھی ، صوفی عبد القدیر صاحب نیاز حضرت قاضی محمد عبد اللہ بی۔اے بی ٹی اور شیخ یوسف علی صاحب بی۔اے پہلے ہی نو گاؤں پر کھم، موضع بھائی موضع ہاتھی ، موضع تیرہ اور موضع بیری وغیرہ میں کام کر رہے تھے۔ضلع فرخ آباد میں ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم تھے اور ان کے تحت حضرت سید عزیز الر حمن صاحب