تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 363
تاریخ احمدیت جلد ۴ 355 یه کار سوار بدظن ہو چکے تھے۔اس لئے ان کے نزدیک یہ بات بڑی حیرت انگیز تھی کہ ایسے خادم دین بھی موجود ہیں جو رضا کارانہ طور پر اسلام کی تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے کا بیٹرہ اٹھائے ہوئے ہیں۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے نہ صرف تین دن کے اندر اندر ضلع ایٹہ کے اکثر دیہات کا دورہ مکمل کر لیا اور ہر گاؤں سے متعلق ایسے تفصیلی کو ائف مہیا کئے گویا مدت سے ان دیہات میں ان کی آمد و رفت تھی۔ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم اور خدا بخش صاحب " مومن جی" پٹیالوی نے ضلع فرخ آباد کا وسیع دورہ کیا۔جناب ماسٹر صاحب نے جوگیوں کے لباس میں بھگوے کپڑے پہنے ننگے سر اور ننگے پاؤں دورہ کرتے رہے جس کا مسلمانوں پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسے مولوی نہیں دیکھے جو اس طرح رات دن تبلیغ میں بھاگے پھریں اور کسی پر کھانے پینے کا بوجھ نہ ڈالیں۔جناب شیخ یوسف علی صاحب بی۔اے ریاست بھرت پور اور علاقہ تنسی میں گئے اور بہت سے گاؤں میں پہنچ کر معزز لوگوں کو پیش آمدہ خطرہ سے آگاہ کیا۔اسی دوران میں شیخ صاحب ریاست بھرت پور کے گاؤں اکرن کی جواں ہمت ستر سالہ بڑھیا جمیا سے بھی ملے جو آریوں کے ڈرانے دھمکانے کے باوجود مذہب اسلام پر قائم تھی۔مائی جمیا نے بتایا کہ مرتد مسلمانوں نے تعصب اور ضد کی وجہ سے اس کی فصل کاٹنے سے بالکل انکار کر دیا ہے۔یہ خبر آگرہ کے دارالتبلیغ میں پہنچی تو حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال امیرو فد المجاہدین نے اسی وقت جناب قاضی محمد عبد اللہ صاحب بی۔اے بی۔ٹی کو (جو اس علاقہ کے انچارج تھے) حکم دیا کہ سب کام چھوڑ کر فورا اپنے آدمیوں کو ساتھ لے کر فصل کاٹنا شروع کر دیں۔اور اس مائی کی حفاظت کا پورا پورا سامان کریں۔چنانچہ حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب بی۔اے بی۔ٹی اور دو سرے مجاہدین نے ہاتھوں میں درانتیاں پکڑ کر بڑھیا کی ساری فصل کاٹ دی۔صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے نے ضلع مین پوری اور متھرا کا دورہ کر کے قریباً چالیس دیہات میں چکر لگایا۔اور سولہ میل روزانہ کی اوسط سے پیدل سفر کرتے رہے۔ایک بار کھانے کا کوئی انتظام نہ ہو سکا اور متواتر انیس گھنٹہ تک بھوکے رہے اور اسی حالت میں سفر جاری رکھا۔غرض کہ اس پہلے ہر اول دستہ کے مجاہدین دس دن تک آگرہ متھرا بھرت پور ایٹہ انادہ مین پوری، فرخ آباد کے اضلاع میں طوفانی دورہ کر کے نہ صرف آئندہ کی مورچہ بندی کے لئے مکمل رپورٹ اور سکیم ساتھ لائے بلکہ شدھی سے متاثر مقامات کے مسلمان مالکانوں کے حوصلے بلند کر دیئے اور ان کو آریوں کے عزائم سے چوکس اور ہوشیار کر دیا۔حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے ۲۴ مارچ کو تار دیا کہ میں مبلغین کی فوری ضرورت ہے