تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 354
تاریخ احمدیت جلد ۴ 346 خلافت هانیه کا دسواں - پس اگر ملنا ہے تو یہ ہندو مسلمان ہو کر تم سے مل جاویں اور یہ ملاپ کیسا ہوا کہ قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ کر دور سے تعلق والوں سے جاملو۔ان کو بتاؤ کہ کرشن جی کی ہم مسلمان تو مہما کرتے ہیں اور ان کو او تار مانتے ہیں لیکن آریہ ان کی ہتک کرتے ہیں اور ان کو گالیاں دیتے ہیں۔تمہارے سامنے کچھ اور کہتے ہیں اور الگ کچھ اور کہتے ہیں۔ان کو بتاؤ کہ ہندو تو تم کو ہندو کر کے بھی چھوت چھات کرتے ہیں اور کریں گے۔چند لوگ لالچ دلانے کو تمہارے ساتھ کھا پی لیتے ہیں ورنہ باقی قوم تم سے برتاؤ نہیں کرے گی چاہو تو چل کر اس کا تجربہ کرلو لیکن مسلمان تم کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ان کو بتاؤ کہ آریہ جو آج تم کو چھوت چھات کی تعلیم دیتے ہیں دوسری جگہوں میں جا کر نیچ قوموں میں شدھی کرتے اور چماروں کو ساتھ ملاتے ہیں۔اس کے حوالے یاد رکھو۔(جیسے جموں میں شدھی ہو رہی ہے لیکن ایسی طرز پر بات نہ کرو کہ گویا تم چھوت چھات کے قائل ہو بلکہ اس بات کا اظہار کرو کہ وہ جھوٹ اور فریب سے کام لے رہے ہیں۔ان کو بتاؤ کہ یہ لوگ تمہارے خیر خواہ نہیں بلکہ دشمن ہیں۔اس کا امتحان اس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمان عرصہ سے کوشش کر رہے ہیں کہ سود کی شرح محدود کر دی جائے اور قانون انتقال اراضی پاس کیا جائے مگر ہندو اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں (ان دونوں قانونوں کو اچھی طرح سمجھ لو) ان باتوں کا ان کو فائدہ سمجھاؤ اور کہو کہ ان کا امتحان اس طرح ہو سکتا ہے کہ جو آریہ یا ہندو آئے اسے کہو کہ اگر تم سچ سچ ہمارے خیر خواہ ہو تو یہ دونوں قانون پاس کراؤ۔پھر ہم سمجھیں گے کہ تم ہمارے خیر خواہ ہو۔۲۳- اپنے دل کو پاک کر کے اور ہر ایک تکبر سے خالی کر کے بیماروں اور مسکینوں کے لئے دعا کرو۔اللہ تعالیٰ تمہاری ضرور سنے گا انشاء اللہ میں بھی انشاء اللہ تمہارے لئے دعا کروں گا تاخد اتعالٰی تمہاری دعاؤں میں برکت دے۔۲۴- اپنی زبان کو اس بات کا عادی بناؤ کہ ان بزرگوں کو جن کو فی الواقع ہم بھی بزرگ ہی سمجھتے ہیں ایسے طریق پر یاد کرو جو ادب اور اخلاص کا ہو۔کھانے پینے پہننے میں ایسی باتوں سے پر ہیز کرو جن سے ان لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔الگ جو چاہو کرو لیکن ان کے سامنے ان کے دل کو تکلیف دینے والی بات نہ کرو کہ علاوہ تمہارے کام کو نقصان پہنچانے کے یہ بد اخلاقی بھی ہے۔