تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 355 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 355

347 - ہر ایک کام تدریجی طور پر ہوتا ہے یہ مت خیال کرو کہ وہ ایک دن میں پکے مسلمان ہو جائیں گے جو لوگ مسلمان ہو جائیں گے۔وہ آہستہ آہستہ پختہ ہوں گے پس یک دم ان پر بوجھ ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔تین چار ماہ میں خود ہی درست ہو جائیں گے۔پہلے تو صرف اسلام سے محبت پیدا کرو اور نام کے مسلمان بناؤ۔مگر یہ بھی نہ کرو کہ اسلام کی کوئی تعلیم ان سے چھپاؤ کیونکہ اس سے بعد میں ان کو ابتلاء آوے گا۔اور یادہ ایک نیا ہی دین بنالیں گے۔۲۷ لباس وغیرہ ان کے جیسے ہیں ویسے ہی رہنے دو اور ابھی چوٹیاں منڈوانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔یہ باتیں ادنیٰ درجہ کی ہیں۔جب وہ پکے مسلمان ہو جائیں گے خود بخود ان سب باتوں پر عمل کرنے لگیں گے۔۲۸۔جس جگہ پر جاؤ۔وہاں خوش خلقی سے پیش آؤ اور بے کسوں کی مدد کرو اور دکھیاروں کی ہمدردی کرد کہ اچھے اخلاق سو وعظ سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔-۲۹ جس جگہ کی نسبت معلوم ہو کہ وہاں کسی شخص کو مناسب مدد دے کر باقی قوم کو سنبھالا جا سکتا ہے۔تو اس کی اطلاع افسر حلقہ کو کرد۔مگر یاد رکھو کہ اس طرف نہایت مجبوری میں توجہ کرنی چاہئے۔جب کوئی چارہ ہو ہی نہیں۔اسی صورت میں یہ طریق درست ہو سکتا ہے۔مگر خود کوئی وعدہ نہ کرو نہ کوئی امید دلاؤ امداد کس رنگ میں دی جاسکے گی۔یہ افسروں کی ہدایت میں درج ہو گا۔اس معاملہ کو افسر حلقہ کے سپر د ر ہنے دو۔کھانے پینے پہننے میں بالکل سادہ رہیں اور جس جگہ افسر حلقہ مناسب سمجھے وہاں کا مقامی لباس پہن لیں اور جس جگہ وہ مناسب سمجھے ایک چادر ہی پہن لو اگر ضرورت ہو تو گیر دار نگ دلوالو۔یاد رکھو کہ لباس کا تغیر اصل نہیں۔لباس کا تغیر اسی وقت برا ہو تا ہے جب انسان ریا کے لئے یا کسی قوم سے مشابہت کی غرض سے پہنتا ہے۔تمہارا تغیر لباس تو عارضی ہو گا اور جنگ کی حکمتوں میں سے ایک حکمت ہو گا۔پس تمہارا طریق قابل اعتراض نہیں ہو گا کیونکہ تم سادھو یا فقیر یا صوفی کہلانے کے لئے ایسا طریق اختیار نہیں کرو گے اور چند دن کے بعد پھر اپنا لباس اختیار کر لو گے۔اس لباس کی غرض تو صرف دشمن اسلام کے حملہ کا جواب دینا ہوگی۔ا کبھی اپنے کام کی رپورٹ لکھنے اور پھر اس کو دفتر حلقہ میں بھیجنے میں سستی نہ کرو۔یاد رکھو کہ یہ کام تبلیغ کے کام سے کم نہیں ہے۔جب تک کام لینے والوں کو پورے حالات معلوم نہ ہوں وہ زکام کو اچھی طرح نہیں چلا سکتے۔پس جو شخص اس کام میں سستی کرتا ہے وہ کام کو نا قابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔