تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 353 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 353

345 خلافت ثانیہ کا دسواں سال ۲۲۔بھی سنا پسند نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو جاتے ہی کھلے طور پر تبلیغ نہ کرنے لگو بلکہ مناسب ہو تو اپنا مقصد پہلے ان پر ظاہر ہی نہ کرو۔اگر کوئی پوچھے تو بے شک تا دو۔مگر خود اپنی طرف سے کوئی چر چانہ کرو کیونکہ اس طرح ایسے لوگوں میں ضد پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔-۲۱ ارد گرد کے مسلمانوں کو یہ باتیں سمجھانے کی کوشش کرو کہ مسلمانوں کی عدم ہمدردی اور سختی سے یہ لوگ تنگ آکر اسلام کو چھوڑ رہے ہیں۔اسلام کی خاطر آپ اب ان سے اچھی طرح معاملہ کریں اور خوش اخلاقی اور احسان سے پیش آویں اور سمجھا دیں کہ ان کا ہندو ہونا نہ صرف ہمارے دین کے لئے مضر ہو گا بلکہ اس کا یہ نتیجہ بھی ہو گا کہ ہندو آگے سے زیادہ طاقتور ہو جائیں گے اور مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا ئیں گے۔(ب) یہ بھی سمجھا ئیں کہ اس فتنہ کو سختی سے نہیں روکا جا سکتا اور سختی سے روکنے کا فائدہ بھی کچھ نہیں۔پس چاہئے کہ محبت کی دھار سے ان کی نفرت کی کھال کو چیرا جائے اور پیار کی رسی سے ان کو اپنی طرف کھینچا جائے۔وہ لوگ جو غیر تعلیم یافتہ ہیں۔کبھی ان سے معلمی بحثیں نہ کرو۔بالکل مدائی موٹی باتیں ان ت کرو۔موٹی موٹی باتیں یہ ہیں۔آریہ مذہب کے بانی نے کرشن جی کی (جن کی وہ اپنے آپ کو اولاد کہتے ہیں اور ان سے شدید تعلق رکھتے ہیں) جو بڑے بزرگ تھے۔ہتک کی ہے۔نیوگ کا مسئلہ خوب یاد رکھو اور ان کو سمجھاؤ کہ تم راجپوت ہو کر ایسی تعلیم کے پیچھے جاسکتے ہو۔مرکز میں ستیارتھ پر کاش رہے گی اگر حوالہ ما نگیں تو دکھا سکتے ہو۔ان کو بتایا گیا ہے کہ تمہارے آباؤ اجداد کو زبر دستی مسلمان کر لیا گیا تھا۔ان سے کہو کہ راجپوت تو کسی سے ڈرتا نہیں۔یہ بالکل جھوٹ ہے اس بات کو ماننے کے تو یہ معنے ہوں گے کہ تمہارے باپ دادا راجپوت ہی نہ تھے۔کیا اس قدر قوم راجپوتوں کی اس طرح دھرم کو خوف یا لالچ سے چھوڑ سکتی تھی۔کہو کہ یہ بات برہمنوں نے راجپوتوں کو ذلیل کرنے کے لئے بنائی ہے۔پہلے ان لوگوں نے تمہاری زمینوں کو سود سے تباہ کیا اب یہ لوگ تمہاری قومی خصوصیت کو بھی مٹانا چاہتے ہیں۔یہ بنئے تو اپنے ایمان پر قائم رہے اور تم راجپوت بہادر ہو کر بادشاہوں سے ڈر گئے۔یہ جھوٹ ہے تمہارے باپ دادوں نے اسلام کو سچا سمجھ کر قبول کیا تھا۔ان کو کہا جاتا ہے کہ تم اپنی قوم سے آلو۔ان کو سمجھاؤ کہ لاکھوں راجپوت مسلمان ہو چکے ہیں۔