تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 338
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 330 خلافت همانیه کادسواں سال سوراج نہیں مل سکتا۔اسی موقعہ پر پنڈت لوک ناتھ جی نے کہا۔اگر اس چھری کو جو گٹو کی گردن پر چل رہی ہے۔بند کرنا چاہتے ہو تو اس کا علاج شدھی ہے نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔اگر آپ ہمیشہ کے لئے کانٹے دار درخت کو مٹانا چاہتے ہیں تو اس کی جڑ نکال دو " - اسی طرح ایک ہندو شاعر نے اپنے قومی نصب العین کو ان لفظوں میں دہرایا۔کام شدھی کا کبھی بند نہ ہونے پائے بھاگ سے وقت یہ قوموں کو ملا کرتے ہیں ہندو کا تم میں ہے گر جذبہ ایماں باقی رہ نہ جائے کوئی دنیا میں مسلماں باقی المختصر شدھی کی خوفناک تحریک نے مسلمانان ہند کو زندگی اور مسلمان پریس کاشور و فغاں موت کی کشمکش میں جتلا کر دیا۔اور اسی لئے مسلمان پریس کو سوامی شردھانند اور ان کے ساتھیوں کے عزائم کو دیکھ کر بالاتفاق لکھنا پڑا کہ ملک کے تمام مسلمان فرقے اگر اس نازک موقعہ پر متحد ہو کر اس کے انسداد کی فوری جدوجہد نہ کریں گے تو ان کا تباہ ہونا قطعی اور یقینی ہے۔خصوصاً اخبار "وکیل" امرتسر کے ایڈیٹر مولوی عبد اللہ منہاس صاحب نے ۸/ مارچ ۱۹۲۳ء کی اشاعت میں " علمائے اسلام کہاں ہیں ؟" کے عنوان سے ایک پُر زور مضمون لکھا۔جس میں حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس نازک موقعہ پر کیوں خاموش ہیں۔حضرت خلیفہ ثانی کی طرف سے شدھی کے خلاف جہاد کا اعلان مسلم پریس نے شدھی کے خلاف آواز تو مارچ ۱۹۲۳ء میں بلند کی مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۹۲۳ء کے آغاز میں ہی اس فتنہ کی طرف توجہ فرمائی اور یہ معلوم ہوتے ہی کہ ایک قوم کی قوم ارتداد کے لئے تیار ہے۔فورا دفتر کو ہدایت فرمائی کہ پوری تحقیق کریں۔چنانچہ آپ کی ہدایت کے مطابق پہلے مختلف ذرائع سے اس خبر کی تصدیق کی گئی۔ضروری حالات معلوم کرنے کے بعد دو سرا قدم یہ اٹھایا گیا کہ فروری ۱۹۲۳ء میں صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے اور ایک اور احمدی کو علاقہ ملکانہ میں ابتدائی سروے اور فراہمی معلومات کے لئے بھیجوا دیا۔صوفی عبد القدیر صاحب نے واپس آکر مفصل بتایا کہ حالت بہت مخدوش ہے اور فوری تدارک کی ضرورت ہے۔اس رپورٹ پر حضور نے شدھی کا وسیع پیمانہ پر مقابلہ کرنے کے لئے ایک زبر دست سکیم تیار کی اور جیسا کہ شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ کا بیان ہے اس اولو العزم امام نے یہاں تک تہیہ کر لیا کہ میری کل جماعت کی جائداد تخمینا دو کروڑ روپیہ کی ہوگی اگر ضرورت پڑی تو یہ سب املاک و اموال