تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 339 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 339

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 331 خدا کی راہ میں وقف کرنے سے میں اور میری جماعت دریغ نہ کریں گے۔" A خلافت ثانیہ کا دسواں سال۔۔۔۔۔۔چنانچہ حضور نے بے / مارچ ۱۹۲۳ء کو اعلان فرمایا کہ جماعت احمد یہ فتنہ ارتداد کے خلاف جہاد کا علم بلند کرنے کی غرض سے ہر قربانی کے لئے تیار ہو جائے۔اس کے بعد ۹ / مارچ ۱۹۲۳ء کو خطبہ جمعہ میں تحریک فرمائی کہ فتنہ ارتداد کے مٹانے کے لئے فی الحال ڈیڑھ سو احمد کی سرفروشوں کی ضرورت ہے۔جو اپنے اور اپنے لواحقین کی معاش کا فکر کر کے میدان عمل میں آجا ئیں چنانچہ آپ نے فتنہ ارتداد کی وسعت بیان کرتے اور جماعت کو اپنی سکیم کے ایک حصہ سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔و ہمیں اس وقت ڈیڑھ سو آدمیوں کی ضرورت ہے جو اس علاقہ میں کام کریں اور کام کرنے کا یہ طریق ہو کہ اس ڈیڑھ سو کو تھیں تھیں کی جماعتوں پر تقسیم کر دیا جائے اور اس کے چار حصہ ہیں ہیں کے بنائے جائیں۔اور تمیں آدمیوں کو ریز رو ر کھا جائے۔کہ ممکن ہے کوئی حادثہ ہو۔اس ڈیڑھ سو میں سے ہر ایک کو فی الحال تین مہمینہ کے لئے زندگی وقف کرنی ہو گی۔۔۔۔۔ہم ان کو ایک پیسہ بھی خرچ کے لئے نہ دیں گے۔اپنا اور اپنے اہل وعیال کا خرچ انہیں خود برداشت کرنا ہوگا۔۔۔۔سوائے ان لوگوں کے جن کو ہم خود انتظام کرنے کے لئے بھیجیں گے۔ان کو بھی جو ہم کرایہ دیں گے وہ تیسرے درجہ کا ہو گا۔چاہے وہ کسی درجہ اور کسی حالت کے ہوں اور اخراجات بہت کم دیں گے۔ان لوگوں کے علاوہ زندگی وقف کرنے والے خود اپنا خرچ آپ کریں گے۔اپنے اہل و عیال کا خرچ خود برداشت کریں گے۔البتہ ڈاک کا خرچ یا وہاں تبلیغ کا خرچ اگر کوئی ہو گا۔تو ہم دیں گے۔۔۔۔۔۔۔اس کے لئے جماعت کو پچاس ہزار روپیہ دینا ہو گا۔ایسے کاموں کے لئے جو تبلیغ وغیرہ کے ہوں گے۔باقی مبلغین اسی رنگ میں جائیں گے وہاں اپنے اخراجات خود اٹھا ئیں گے۔۔۔۔۔جو لوگ ملازمتوں پر ہیں وہ اپنی رخصتوں کا خود انتظام کریں اور جو ملازم نہیں اپنے کاروبار کرتے ہیں۔۔۔۔۔وہاں سے فراغت حاصل کریں اور ہمیں درخواست میں بتائیں کہ وہ چار سہ ماہیوں میں سے کسی سہ ماہی میں کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔۔۔اس انتظام کے ماتحت ہم سخت انتظام کریں گے اور جو ہیڈ بنائے جائیں گے ان کی پوری اطاعت کرنی ہوگی۔ممکن ہے کہ بعض اوقات افسر سختی بھی کر بیٹھیں اور مار بھی بیٹھیں لیکن جو ماتحت ہو کے جائیں گے ان کا فرض ہو گا کہ وہ اپنے تمام ارادوں کو چھوڑ کر جائیں۔اور تمام سختیوں کے مقابلے میں کام کریں اور افسر نے اگر ناواجب تکلیف دی ہو گی تو کام کے ختم ہونے کے بعد رپورٹ کر سکتے ہیں مگر اس وقت کام کرنا ہو گا۔ماتحتوں کو بہر حال افسروں کی اطاعت کرنی اور ان کا حکم ماننا ہو گا۔اگر وہ زیادتی کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کو سزا دے گا صبر کا اجر ملے گا اور بعد میں رپورٹ کر سکتے ہیں۔اس سکیم کے ماتحت کام کرنے والوں کو ہر ایک اپنا کام آپ کرنا ہو گا۔اگر کھانا آپ