تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 324 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 324

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 316 خلافت ثانیه کانواں سال ہیں۔مولوی عبد اللہ ناصر الدین صاحب ہیں جو دید بھی پڑھے ہوئے اور اعلیٰ ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔سکھوں کے متعلق واقفیت رکھنے والے کئی لوگ ہیں گیانی عباداللہ صاحب اور گیانی واحد حسین صاحب اور ان کے علاوہ سردار محمد یوسف صاحب جو سکھوں کی کتب اور لٹریچر کے پرانے ماہر ہیں اور خداتعالی کے فضل سے دیر سے بہت مفید کام کر رہے ہیں غالب ۱۹۲۲ء کی بات ہے کہ مہاشہ محمد عمر صاحب ہندو طالبعلموں کی ایک پارٹی کے ساتھ مجھے ملنے کے لئے آئے تھے گورو کل کانگڑی کے ایک پروفیسر صاحب یہاں ایک جلسہ پر آئے تھے اور اپنی بہادری دکھانے کے لئے آئے کہ دیکھو میں کیسی اچھی تقریر کرتا ہوں طالب علموں کی ایک پارٹی کو بھی ساتھ لے آئے۔انہوں نے طلبہ کو مجھ سے ملنے کو بھی بھیجا۔اس وقت مہاشہ محمد عمر بھی ان کے ساتھ تھے میں نے طالب علموں سے کہا پروفیسر صاحب سے کہو کہ آپ اپنے چند طالب علم یہاں بھیج دیں میں خود ان کو قرآن پڑھاؤں گا اسی طرح میں چند طالبعلم بھیجتا ہوں جن کو وہ دید پڑھائیں۔خرچ اپنے طالب علموں کا بھی اور ان کے بھیجے ہوئے طالب علموں کا بھی میں ہی دونگا۔اگر قرآن کریم میں تاثیر ہوگی تو ان کے بھیجے ہوئے طالب علموں کو میں مسلمان کر لوں گا اور اگر دیدوں میں تاثیر ہوگی تو ہمارے طالب علموں کو وہ ہندو کر سکیں گے۔اور یہ ہم دونوں کا انعام ہو گا۔مگر انہوں نے اس تجویز کو نہ مانا۔ماشہ محمد عمر صاحب بھی اس پارٹی میں تھے ان کے دل پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ چند دنوں کے بعد بھاگ کر یہاں آگئے انہوں نے گو جوانی یہاں گزاری ہے مگر بچپن میں وہ ہندوؤں میں رہے ہیں اور وہیں پڑھتے رہے ہیں اس لئے ان کا لب ولہجہ ہندوانہ ہے ان کے علاوہ معاشہ فضل حسین صاحب ہیں وہ شاید سنسکرت تو نہیں جانتے مگر ہندو لٹریچر سے اچھے واقف ہیں"۔(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء صفحہ ۷۴۔تفصیل کے لئے دیکھیں "ہدایات زریں" ۷۵- حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرب الكعبة ذو السويقتين من الحبشة ( صحيح مسلم جلد دوم مصری صفحه ۳۱۹) الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۲۰ء صفحه ۴-۵ ۷۷۔الفضل سے مارچ ۱۹۲۱ء صفحہ ؟ ۷۸ - الفضل ۱۸ اپریل ۱۹۲۱ء صفحه ۲ الفضل ۱۸ اپریل ۱۹۳۱ء صفحہ ۷۰۶۔مسٹر خیر الدین صاحب عرصہ سے سلسلہ کانٹریچر مطالعہ کر رہے تھے اب حضرت نیر صاحب کی آمد پر انہوں نے بیعت کرلی اس طرح سیرالیون میں احمدیت کا بیج بویا گیا۔سیرالیون کا سولہ سال بعد مستقل دار التبلیغ ۱۹۳۷ء میں قائم ہوا جس کے تفصیلی حالات اگلی جلد میں آرہے ہیں۔۰۸۰ الفضل ۵ مئی ۱۹۲۱ء صفحه ۱-۲ الفضل ۱۹ متی ۱۹۲۱ء ابتداء میں جب مغربی افریقہ کے بعض مسلمانوں نے حضرت نیر صاحب سے ملاقات کی تو کہا کہ آج تک لوگ ہم پر ہنتے تھے کہ سفید آدمی مسلمان نہیں ہوتے الحمد للہ کہ اب سفید آدمی مبلغ اسلام ہو کر یہاں آگیا ہے (الفضل ۵ مئی ۱۹۲۱ء صفحہ ۲ ۰۸ بیست مہدی کی جائے رہائش کا مقام ۸۴- نائیجیریا کی دو قومیں اول اسلام میں داخل ہو کہیں ہو سا جو عرب مخلوط نسل سے ہیں۔یو رہا جو حبشی النسل ہیں ہو ساتھ امت پسند مسلمان ہیں اور یو رہا مہذب اور تجارت سے مشغل رکھتے ہیں۔۸۵- اس زمانہ میں سیرالیون گولڈ کوسٹ اور نائیجیریا میں ایک بھی مسلمانوں کا ایسا مدرسہ نہیں تھا جس میں جدید طرز کی تعلیم دی جاتی ہو۔مسلمانوں کے جو بچے ذرا انگریزی پڑھ لیتے وہ عیسائی ہو جاتے تھے۔الفضل ۱۹ مئی ۱۹۲۱ صفحه ۲۰۳ ۸۷- افریقہ میں جماعت احمدیہ کو عیسائیت کے مقابل شاندار فتوحات کی خبر پڑھ کر خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے حضرت خلیفہ مانی کی خدمت میں مخط لکھا کہ بے اختیار زبان سے الحمد للہ نکلا۔افریقہ میں عیسائیت کے مقابلہ میں مرزائیت کی فتح یقینا ہر مسلمان کو اچھی معلوم ہوگی بشر طیکہ وہ حاصل مقصد کو سمجھتا ہو میں آپ کے عقیدہ کا اب تک دل سے مخالف ہوں مگر امریکہ یورپ i