تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 304
تاریخ احمدیت جلد ۴ 296 خلافت ثانیہ کا نواں ما ہے تو اس کا یہ ذریعہ ہے کہ مولوی صاحب بھی اعلان کریں اور میں بھی اعلان کرتا ہوں کہ ایک سو آدمی جو کم سے کم پچاس روپیہ ماہوار کے ملازم ہوں یا علم دین کے واقف ہوں تبلیغ اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔اور اشاعت اسلام کے لئے چین یا جاپان یا امریکہ کی طرف نکل جائیں پھر دیکھیں کہ مولوی صاحب کی تحریک پر کس قدر آدمی اپنی نوکروں یا اپنے رشتہ داروں کو چھوڑ کر اسلام کی تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور میری تحریک پر کس قدر۔ابھی اسی جگہ مولوی صاحب بھی اعلان کر دیں اور میں بھی ابھی اعلان کرتا ہوں ابھی اس کا امتحان کر لیا جائے۔کہ اس وقت جو ان کے ہزاروں ہم خیال جمع ہیں ان میں سے کس قدر ان کی بات مانتے ہیں اور میرے چند سو مبائع جو اس وقت موجود ہیں ان میں سے کس قدر میری بات کو مانتے ہیں۔پتھر کھانے سے گویا ثابت ہو جائے گا کہ محمد رسول اللہ ا کا سچا قائم مقام کون ہے مگر اسلام کو کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔مگر اس تجویز سے جو میں پیش کرتا ہوں اسلام کو بھی فائدہ ہوگا۔شیر اسلام کی یہ للکار سن کر شیر پنجاب کہلانے والے مولوی ثناء اللہ صاحب نے خاموشی مناسب کبھی۔مجلس شوری کا قیام حضرت خلیفہ السیح الثانی نے جہاں صدر انجمن احمدیہ کے انتظام میں اصلاح کی ضرورت کو محسوس کیا۔وہاں آپ کو اس ضرورت کا بھی احساس پیدا ہوا کہ اہم ملی امور میں جماعت سے مشورہ لینے کے لئے کوئی زیادہ مناسب اور زیادہ منتظم صورت ہونی چاہئے۔چنانچہ حضور نے وسط اپریل ۱۹۲۲ء میں مستقل طور پر مجلس شوری کی بنیاد رکھی۔مجلس شوری کے قیام سے گویا جماعتی نظام کا ابتدائی ڈھانچہ مکمل ہو گیا یعنی سب سے اوپر خلیفہ وقت ہے جو گویا پورے نظام کا مرکزی نقطہ ہے۔اس سے نیچے ایک طرف مجلس شوری ہے اور اہم اور ضروری امور میں خلیفہ وقت کے حضور اپنا مشورہ پیش کرتی ہے اور دوسری طرف اس کے متوازی صد را انجمن احمد ید ہے جسے نظارتوں کے انتظامی صیغہ جات چلانے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔جماعت احمدیہ کی پہلی مجلس شوری ۱۵-۱۶ اپریل ۱۹۲۲ ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول ( قادیان) کے ہال میں منعقد ہوئی اور اس میں ۵۲ بیرونی اور ۳۰ مرکزی نمائندوں نے شرکت کی۔ہال کی شمالی جانب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی میز اور کرسی تھی اور سامنے نصف دائرہ کی شکل میں نمائندے کرسیوں پر بیٹھے تھے ساڑھے نو بجے صبح کے قریب حضور نے افتاحی تقریر فرمائی جو بارہ بجے تک جاری رہی یہ چونکہ اپنی نوعیت کی پہلی مجلس شورای تھی۔اس لئے حضور نے تفصیل کے ساتھ اس کی ضرورت و اہمیت اور اس کے طریق کار پر روشنی ڈالی اور نمائندگان کو متعدد اہم ہدایات دیں جو ہمیشہ