تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 303
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ ۱۹۴ 295 خلافت ثانیه کانواں سال ۲۳ فروری ۱۹۲۲ء III کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی لاہور تشریف لے گئے سفر لاہور اور ۲ مارچ ۱۹۲۲ء کو واپس قادیان آئے یہ سفر بظا ہر شہزادہ ویلز کے استقبال کی غرض سے تھا۔جو ارشاد نبوی اذا جاء کریم قوم فاکر موہ کی تعمیل میں تھا۔لیکن اس کے پیچھے اور بھی اہم دینی مقاصد کار فرما تھے۔جن کی تفصیل اخبار الفضل کے الفاظ میں یہ ہے کہ حضور خلیفتہ المسیح نے لاہور کے قیام کا ایک ہفتہ وعظ و نصیحت اور ارشاد و ہدایت میں صرف کیا۔کہیں جماعت کے نو نہال طلباء کو وعظ کرتے تھے کہیں عام لوگوں کو سمجھاتے تھے کہیں ایک جلسہ کی صورت میں تعلیم یافتہ لوگوں کو مذ ہبی اور روحانی لذت کا شوق دلاتے تھے کہیں دہریت اور مادیت کی رگ پر نشتر رکھتے تھے کہیں عیسویت کا سحر باطل کرتے تھے کہیں منکرین الهام و نبوت کو قائل کرتے تھے۔غرض ایک کیفیت تھی ایک حال تھا ایک ولولہ تھا جو چلتا پھرتا اور کام کرتا اور لوگوں کو کام کرنے پر آمادہ کرتا نظر آتا تھا۔اس سفر میں بہت سے لوگوں کے شکوک مذہب کے متعلق دور ہوئے بہت سے اوہام باطل ہوئے اور قریباً میں پچیس شخصوں نے بیعت بھی کی۔اس سفر کے دوران حضور ۲۶ فروری ۱۹۲۲ء کو گنج مغلپورہ کی احمد یہ مسجد دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے اور وہاں دو نفل نماز پڑھائی۔یہ مسجد مستری محمد موسیٰ صاحب (نیلہ گنبد لاہور) نے تعمیر کرائی تھی۔۲۷ فروری کو احمدیہ انٹر کالجیٹ کے اجلاس میں روح کی نشاۃ ثانیہ کے موضوع پر تقریر فرمائی - ۲۸ فروری کو دیال سنگھ کالج لاہور کے پرنسپل آپ کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔[148] 146- ناظر اول کا تقرر مارچ ۱۹۲۲ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے نظارت کے صیغوں کی مزید نگرانی خصوصاً محکمہ تجارت کی نگرانی کے لئے ناظر اعلیٰ کے علاوہ ایک نیا عہدہ ناظر اول کا تجویز فرمایا۔اور اس کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نامزد کئے گئے۔قادیان کے غیر احمدی مسلمانوں نے گذشتہ سال علماء کو تبلیغ اسلام میں مقابلہ کی دعوت کی طرح مارچ ۱۹۲۲ء میں بھی اپنا سالانہ جلسہ کیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جلسہ پر تشریف لانے والے غیر احمدی علماء کو تحقیق حق کے لئے تبادلہ 144 خیالات اور بالآخر مباہلہ کی بار بار دعوت دی۔جس پر مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری نے اپنی ایک تقریر میں یہ جواب دیا کہ میں بڑی حیثیت کا مالک ہوں اور آپ سے مخاطب ہونا بھی اپنی ہتک سمجھتا ہوں اور اس کے ثبوت میں کہا کہ کلکتہ تک آپ میرے ساتھ چلیں تو اس سے معلوم ہو جائے گا کہ پھول کس پر نچھاور ہوتے ہیں اور پتھروں کی بارش کس پر ہوتی ہے؟ حضرت خلیفہ ثانی نے اس کے جواب میں اشتہار دیا کہ اگر مولوی صاحب نے اپنی حیثیت کا پتہ لگانا