تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 242 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 242

تاریخ احمد 234 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال خاں۔دو جو وال (اجتالہ) گجرات - شاہ جہان پور - دیلی۔(احکم ۱۴ / اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۰) ۱۵۳۔منصب خلافت سرورق صفحه ۲ ۱۵۴۔شکریہ اور اعلان ضروری مشمولہ ضمیمہ الفضل ۱۲ مئی ۱۹۱۳ء صفحہ ۸ ۱۵۵ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء صفحه ۳۳- ۱۵۶۔منصب خلافت صفحه ۱۶ تا۱۹ ( طبع اول) ۱۵۷۔اس لیکچر میں حضور نے غیر مبایعین کے اعتراضوں کی حقیقت کھول کھول کرتائی کہا جاتا تھا کہ عمر چھوٹی ہے۔حضور نے اس کے جواب میں حضرت ابن ابی لیلی کا واقعہ بیان فرمایا جنہیں حضرت عمر نے انیس سال کی عمر میں کوفہ کا گور نر بنا کر بھیجا تھا۔کوفہ والوں نے از راہ مذاق ان سے عمر ہو تبھی تو انہوں نے جواب دیا۔آنحضرت ﷺ نے اسامہ کو جس عمر میں کبار صحابہ کا افسر بنا کر محاذ شام پر بھیجا تھا میں اس سے دو سال بڑا ہوں۔حضور نے فرمایا۔میں بھی اس رنگ میں جواب دیتا ہوں کہ میری عمر تو ابن ابی لیلی سے بھی سات برس زیادہ ہے"۔(منصب خلافت صفحه ۴۴-۴۵) - صدر انجمن احمدیہ کے ریکارڈ میں مولوی محمد علی صاحب کی اس اطلاع کا ذکر ہمیں ملتا ہے کہ میں چھ ماہ کی رخصت پر جاتا ہوں میری غیر حاضری میں افسر اشاعت اسلام کا مناسب انتظام کیا جائے۔( روند اد اجلاس ۲۶/ اپریل ۱۹۱۳ء) ۱۵۹- آئینه صداقت صفحه ۱۹۹٬۱۹۸) طبع اول اخبار نور (۱۷/ اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ ۹ کالم ۳) نے مولوی صاحب کی خبر شائع کرتے ہوئے لکھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی سلامت روی اور صلح جوئی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ آپ عین اس جھگڑے اور اس شدید جنگ میں بنفس نفیس جناب مولوی محمد علی صاحب کے ہاں تشریف لے گئے۔١٦٠ الفضل ۱۸/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ اکالم ۹۴ / جون ۱۹۱۴ء صفحہ اکالم اپر ان کا ذکر ہے۔وفات ۲/ جنور کی ۱۹۶۱ء - -۱۲۲ ریکارڈ صدرانجمن احمد یہ ۱۹۱۴ء سے ماخوذ تفصیل تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحہ ۴۹۱-۳۹۴ پر گزر چکی ہے۔۱۲۴۔جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات صفحه ۱ از چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے ) طبع اول و سمبر ۱۹۲۷ء۔۱۲۵۔لندن سے مکرم درد صاحب کی ادارت میں ایک ہفتہ وار اخبار مسلم ٹائمز کے نام سے بھی شائع ہوتا رہا۔(الفضل ۲۸/ دسمبر (61959 ۱۲۶۔الفضل ۲۸/ اپریل ۱۹۳۹ء صفحہ ۴۔اب ان کی عمر 20 برس کی ہوگی۔جب ان کے سامنے حضور کا ذکر آتا ہے۔تو چشم پر آب ہو جاتے ہیں۔۱۹۷۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ مسجد فضل لندن از حضرت میر محمد اسمعیل صاحب) مطبوعہ دسمبر۷ ۱۹۲ء قادیان۔۱۲۸۔آپ کی واپسی ۱۳/ ستمبر ۱۹۳۵ء کو ہوئی۔۱۲۹۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ا حمدیہ مشن لنڈن کی ایک سالانہ رپورٹ (مطبوعہ الفضل ۲۴/۲۷ مئی ۱۹۳۴ء) ۱۷۰۔رسالہ نقوش آپ بیتی نمبر صفحہ ۵۴ میں خود قائد اعظم کے الفاظ میں اس فیصلہ کا تذکرہ موجود ہے۔ا۔حضرت مولانا درد صاحب کی زبان سے اس اہم واقعہ کی تفصیل سنئے فرماتے ہیں۔" یہ بھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ قائد اعظم نے انگلستان سے ہندوستان واپس آکر مسلمانوں کی سیاسی قیادت سنبھالی اور اس طرح بالآخر ۷ ۱۹۴ ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔جب میں ۱۹۳۳ء میں امام مسجد لندن کے طور پر انگلستان پہنچا تو اس وقت قائد اعظم انگلستان میں ہی سکونت رکھتے تھے۔وہاں میں نے ان سے تفصیلی ملاقات کی اور انہیں ہندوستان واپس آکر سیاسی لحاظ سے مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے پر آمادہ کیا۔مسٹر جناح سے میری یہ ملاقات تین چار گھنٹے تک جاری رہی۔میں نے انہیں آمادہ کر لیا کہ اگر اس آڑے وقت میں جبکہ مسلمانوں کی راہنمائی کرنے والا اور کوئی نہیں ہے انہوں نے ان کی پھنسی ہوئی کشتی کو پار لگانے کی کوشش نہ کی تو اس قسم کی علیحدگی قوم کے ساتھ بے وفائی کے مترادف ہوگی چنانچہ اس تفصیلی گفتگو کے بعد آپ مسجد احمد یہ لندن میں تشریف لائے اور وہاں باقاعدہ ایک تقریر کی جس میں ہندوستان کے مستقبل کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔اس کے بعد قائد اعظم