تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 241 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 241

تاریخ احمدیت جلد ۴ 233 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال ۱۰۔الفضل ۲/ جولائی ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۰۔۱۴۱- ریزولیوش نمبر ۱۶۰ -۱۴۲ ریزولیوشن نمبر ۱۲۶ اس ریزولیوشن کی بحث کے دوران مولوی محمد علی صاحب اور ان کے تینوں رفقاء (مولوی صدر الدین صاحب کے علاوہ) اجلاس سے تشریف لے گئے جس کی وجہ مجاہد کبیر میں لکھی ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ وہ امور جو ایجنڈا پر بھی نہ تھے اس مجلس میں تحکمانہ طور پر پاس ہونے لگے " (صفحہ ۱۱۹) مگر صدر انجمن احمدیہ کا ریکارڈ اس ادعاء کی تغلیط کے لئے کافی ہے۔پھر لکھا ہے کہ مولوی نور الدین صاحب کے وقت میں پکا فیصلہ ہو چکا تھا کہ حضرت مولوی شیر علی صاحب کو ولایت بھجوایا جائے۔مجاہد کبیر صفحہ ۱۲۰) ہمارا دعویٰ ہے کہ صدر انجمن احمدیہ نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا اگر انجمن نے کوئی ایسا پکا فیصلہ کیا ہو تا تو اسے ایجنڈا میں ضرور ہونا چاہئے تھا۔لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے۔۱۴۳۔ریزولیوشن نمبر ۱۷۔۱۴۴ ریزولیوشن نمبر ۱۷۳ ۱۴۵۔اس اجلاس کی کارروائی پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور مولوی صدرالدین صاحب (سیکرٹری) کے دستخط ہیں۔۱۴۶۔الحکم ۱۳/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۹ کالم ۳۔نمائندگان کی فہرست کے لئے ملاحظہ ہو ا حکم ۲۱ / اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۷ ۸ و الفضل ۲۰/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحه ۱۵-۱۲- ۷ ۱۴۔منصب خلافت صفحہ ۳۱۔۱۴۸۔منصب خلافت سرورق صفحه ۲ ( طبع اول) ۱۴۹۔منصب خلافت سرورق صفحه ۱۲ صفحه ۵۵-۵۶ ۱۵۰۔یہ ترمیم عملی اعتبار سے ہر گز کوئی نئی چیز نہیں تھی بلکہ یہ اسی اعلان کی دستوری و آئینی تعبیر تھی جو صد را انجمن احمدیہ نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت خلافت پر ان الفاظ میں کیا تھا کہ " حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود و مهدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔(بدر ۲/ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۶ کالم ۲) اور انجمن کا ریکارڈ شاہد ہے کہ انجمن کی نگاہ میں حضرت خلیفہ اول کا فرمان قطعی اور ناطق رہا چنانچہ انجمن کو حضرت خلیفتہ المسیح کے حکم کی تعمیل میں اپنے فیصلوں کی ترمیم ہی نہیں تنسیخ بھی کرنا پڑی۔(ملاحظہ ہو ریزولیوشن نمبر ۱۲۳۱ مورخہ ۲۶ / مارچ ۱۹۱۰ء) مولوی محمد علی صاحب اور دوسرے اکابر نے ۱۹۱۳ء میں ایک اور اعلان کیا کہ " ساری قوم کے آپ مطاع ہیں اور سب ممبران مجلس معتمدین آپ کی بیعت میں داخل اور آپ کے فرمانبردار ہیں"۔(پیغام صلح ۴ / د سمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۳ کالم ) پس یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ اس ترمیم سے عملاً کوئی فرق نہیں پڑا ہاں اس سے ان لوگوں کی ضرور قلعی کھل گئی جنہوں نے انجمن کے اجتہاد کو جنت قرار دینے کے باوجود اس کثرت رائے سے کیا ہوا فیصلہ قبول کرنے سے بالکل انکار کر دیا حالانکہ حضرت مسیح موعود سلسلہ کے ان معاملات کے بارے میں جو انجمن کے ہاتھ میں ہیں یہ تحریر فرما چکے ہیں۔" میری رائے تو یہی ہے کہ جس امر پر انجمن کا فیصلہ ہو جائے کہ ایسا ہونا چاہئے اور کثرت رائے اس میں ہو جائے تو وہی امر صحیح سمجھنا چاہئے اور وہی قطعی ہونا چاہئے۔اس پر بس نہیں حضور نے ساتھ ہی وضاحت فرمائی کہ میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ انجمن خلاف منشاء میرے ہرگز نہیں کرے گی۔غیر مبایعین کی کی رائے میں یہ سب کارروائی حضرت مسیح موعود کے منشاء کے خلاف تھی۔اور انجمن کا ترمیم سے متعلق فیصلہ قابل تسلیم نہیں تھا اور اس لئے اس پر انہوں نے بہت شور بھی اٹھایا کیونکہ ان کے نزدیک صرف ان کے ہم خیال ممبروں ہی کا دوسرا نام انجمن تھا۔وہ اسی انجمن کی مجموعی رائے کو ناطق و قطعی سمجھتے تھے۔۱۵۱۔منصب خلافت طبع اول صفحه ۵۵-۵۲- ۱۵۲۔جن مقامات کی جماعتوں کے نمائندے اس اجلاس میں موجود تھے ان کے نام یہ ہیں۔لاہور یا کپٹن کریام ضلع جالندھر۔راہوں۔کلکتہ - امرتسر بھنگالہ ضلع ہوشیار پور مردان ضلع پشاور صوابی سہارن پور جموں، سیالکوٹ گوجرانوالہ - ملتان - علی پور۔لائل پور بٹالہ - سار چور ھڈیار - کو کھووال- تلونڈی راه والی، جالندھر چھاؤنی - گوجرہ اہل پور - کوٹ رادھا کشن کراچی۔بھریا۔سرگودھا، دوالمیال کپور تھلہ - لودھراں - جوڑہ سیکھواں - محلا نوالہ - اہرانہ - صریح مانگٹ اونچے گوجر انوالہ - ڈیرہ غازی