تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 236
تاریخ احمدیت جلد ۴ 228 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال قوم کی خدمت میں اپیل صفحہ ۷۰۶- از عجب خان صاحب پاڑا چتار) اس ضمن میں پیغام صلح ۱۶ / مئی ۱۹۱۵ء صفحہ ۴ کالم کی یہ عبارت بھی ملاحظہ ہو۔صاحبزادہ صاحب کے مریدین کو حضرت مولوی محمد علی صاحب کو خلیفتہ اصحیح مانے میں کیا عذر ہے جہاں تک ہم خیال کر سکتے ہیں صاحبزادہ صاحب کو فقط میں فوقیت ہے کہ وہ جسمانی طور پر ولد مسیح موعود ہیں ورنہ حضرت مولوی صاحب ممدوح حضرت مسیح موعود کے سلسلہ مبارکہ کی خدمت اس وقت سے کر رہے ہیں جب کہ صاحبزادہ صاحب کے دودھ کے دانت بھی ابھی نہ نکلے تھے "۔چنانچہ جناب مولوی صدر الدین صاحب ۱۶/ اپریل ۱۹۱۴ء کو اور جناب مولوی محمد علی صاحب ۲۰/ اپریل ۱۹۱۴ء کو قادیان چھوڑ کر چلے آئے۔(پیغام صلح ۲۱/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ اور مجاہد کبیر صفحہ ۱۲۴) الفضل میں ان کے جانے پر یہ خبر شائع ہوئی۔" صدر المجمن کے اجلاس میں مولوی محمد علی صاحب کو ۱/۲ ۴ماہ کی رخصت با تنخواہ بحساب دو سو سولہ روپے ماہوار ملی ماسٹر صدر الدین صاحب کو ایک ماہ کی رخصت ملی با تنخواه حساب ایک سو پچھتر روپیہ ماہوار اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جب آپ پھر آنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو رخصت یا تنخواہ لینے کے کیا معنے "۔(الفضل ۲۹ / اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ا کالم ۱-۲) ام لکھا ہے "ہمارے دوستوں نے ملزم کیا کہ تم نے یہ بھاری غلطی کی جو قادیان کو چھوڑ کر آئے ہم نے اس کی ہمیشہ کی وجہ پیش کی کہ فساد سے بچنے کے لئے ہم نے قادیان کو چھوڑ دیا۔(پیغام صلح یکم نومبر ۱۹۴۴ء صفحہ ۲) -۴۲- جناب مولوی محمد علی صاحب نے انہی دنوں اقرار کیا تھا۔سیکرٹری ان کا مرید محاسب ان کا مرید ناظران کا مرید خود وہ اس کے میر مجلس پندرہ ممبروں میں سے تو ان کے مرید وہ جس طرح چاہتے اس انجمن سے کام لے سکتے تھے۔(پیغام صلح ۵ / مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم )۔آپ نے بیعت خلافت پر ایک مفصل مکتوب حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالٰی کی خدمت میں بھی لکھا تھا۔جو الفضل ۱/۸ اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ ۲۴ پر طبع شدہ ہے۔۴۴۔اس تعلق میں پیغام صلح (۲۱ / اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ اکالم ۳) کا یہ اعلان ملاحظہ ہو۔انجمن برائے نام ایک چیز رہ گئی ہے جو پیر کے ہر ایک حکم کی تعمیل کرنے والی ہو گی ہمارے نزدیک یہ تمام کارروائیاں سلسلہ کے انتظام کو بیخ و بن سے اکھاڑنے والی ہیں اور تھوڑے دنوں میں یہ مردہ انجمن جو اب پیر کے ہاتھ میں کام کرانے کا ایک آلہ ہو گا خود بخود مرجائے گی لہذا ہم اپنے احباب کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کسی قسم کا روپیہ قادیان نہ بھیجیں۔۴۵ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف طور پر الوصیت میں تحریر فرمایا تھا کہ یہ ضروری ہو گا کہ مقام اس انجمن کا ہمیشہ قادیان کر ہے کیونکہ خدا نے اس مقام کو برکت دی ہے۔مگر ان لوگوں نے اس بابرکت مقام سے ابدی انقطاع کر لیا۔اور لاہور کو مدینہ المسیح لکھنا شروع کر دیا۔(پیغام صلح ۲۸/ اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ ۲) چیسہ اخبار لاہور نے لکھا۔میں کسی کا طرفدار نہیں لاہور کی جماعت نے جواب اختلاف خلافت کے بعد لاہور کو کھینچ تان کر مدینہ صحیح بنایا ہے۔اگر ان کا لاہور کے مدینہ المسیح ہونے کی نسبت پہلے سے اعتقاد تھاتو پیغام صلح بھی اب بہت عرصہ سے نکلتا ہے اس میں اس سے پہلے اس امر کو کیوں ظاہر نہ کیا گیا۔(پیسہ اخبار بحواله الفضل ۲۳ / مئی ۱۹۱۳ء صفحه ۲ کالم ۲-۳-) ۴۶ جناب مولوی محمد علی صاحب ابھی قادیان میں ہی تھے کہ انہوں نے صدر انجمن احمد یہ قادیان کے ملازم ہونے کے باوجود اس نئی انجمن کی تشکیل میں سب سے نمایاں حصہ لیا۔اور پیغام صلح ۲ / اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۸ پر اس کا اعلان بھی کر دیا۔۴۷ صدر انجمن احمدیہ کے ریکارڈ سے یہ حقیقت بخوبی واضح ہوتی ہے کہ فروری ۱۹۱۴ء کے گوشوارہ کے مطابق انجمن کے تمام ضروری شعبے مثلا مد رسه مقبره، بهشتی ، تعمیر اور بیت المال وغیرہ سب مقروض ہو چکے تھے۔سید محمد حسین شاہ صاحب نے پیغام صلح (۱۶/ جون ۱۹۱۴ء صفحہ ۳ کالم (۳) پر خزانہ کے خالی ہونے کا بایں الفاظ اقرار کیا۔میاں صاحب نے چندوں کی تحریک اپنے متعلق ما صاحب نے کر کے انجمن کو ان مشکلات میں ڈالا ہوا ہے کہ اس کا خزانہ خالی ہے۔الخ۔-۲۸ سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۴۷۰۳۴۲ سے معمولی تصرف کے ساتھ ماخوذ (مؤلفہ حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اجنبي -۴۹ پیغام صلح ۱۶ / اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ الف کالم -