تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 235 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 235

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 227 خلافت ثانیہ کا چھٹا س خلیفه برحق حضرت مسیح موعود کی آواز ہے۔یہ ضرور کامیاب ہو کر رہے گا اور جماعت احمدیہ کا بہترین حصہ جو اپنے سر میں دماغ اور دماغ میں عقل اور دل میں تقویٰ اللہ اور خشیت اللہ رکھتا ہے ضرور اس مرد میدان کے ساتھ ہو جاوے گا اور آخر کار یہ مخص کامیاب ہو کر رہے گا"۔(ایضا صفحہ ۱۳) ۳۵۔ابتدائے خلافت میں فتنہ کو فرد کرنے کے لئے قلمی خدمات سرانجام دینے والے ممتاز بزرگ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب حضرت میر محمد اسمعیل صاحب حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی حضرت مولانا شیر علی صاحب حضرت پیر منظور محمد صاحب حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب حلاپوری۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب حضرت میر محمد الحق صاحب حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب - حضرت میر قاسم علی صاحب حضرت میاں محمد سعید سعدی - حضرت محمد حسن صاحب آسان دہلوی رضی اللہ عنہم اور حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل ۳۶۔اس سلسلہ میں حضرت حافظ روشن علی صاحب حضرت میر محمد الحق صاحب حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب کو پشاور لدھیانہ سیالکوٹ اور شملہ وغیرہ مقامات کی طرف بھجوایا گیا۔ان رات کے علاوہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب حضرت میر ناصر نواب صاحب - حضرت مولوی شیر علی صاحب حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ حضرت ماسٹر محمد دین صاحب میسٹر مبارک اسمعیل صاحب نے بھی وعظ و تلقین کے لئے سفر کئے مؤخر الذکر دو حضرات سیالکوٹ گئے تھے۔(الفضل ۲۱ / مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ سے کالم ۳ و الفضل یکم اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ الالم ۲ و الفضل ۱/۸ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہا لاہور میں جو اس فتنے کا اصل مرکز تھا حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی بھجوائے گئے۔(الفضل ۶/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ اکالم ۳ار انہوں نے مبارک منزل احاطہ چراغ دین میں اپنا مرکز قائم کر لیا۔(یاد رہے کہ خلافت ثانیہ کے شروع سے ہی غیر مبائع زلاند نے ملک میں طوفانی دورے کرنے شروع کر دیتے تھے۔(مجاہد کبیر صفحہ ۱۲۵) ایضا الفضل یکم اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱) ۳۷۔چنانچہ ان حضرات کو سر توڑ کوشش کے بعد بالآخر اقرار کرنا پڑا ٹوائے معد دوے چند اشخاص کے میاں صاحب کے ساتھ ساری جماعت تھی۔اپیغام صلح ۲۳ مارچ ۱۹۳۷ء صفحہ ۶ کالم (۳) اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ بھی لکھا کہ میاں صاحب اگر حضرت مسیح موعود کے بیٹے نہ ہوتے اور قادیان مرکز نہ ہوتا اور کوئی میسم پیشگوئی اور انصار اللہ پارٹی ان کی پشت پر نہ ہوتی تو پھر ہم دیکھ لیتے کہ میاں صاحب اپنے عقا کہ باطلہ کے ساتھ کس طرح کامیاب ہو جاتے ( ایضا) بن بنایا کام بنی بنائی جماعت بنی بنائی قومی جائیدادیں اسکول بورڈنگ روپیہ خزانہ سبھی کچھ بنا بنا یا مل گیا۔قادیان کا مرکز اور مسیح موعود کا بیٹا ہونا کام بنا گیا قادیان کی گدی نہ ہوتی مسیح موعود کا بیٹا نہ ہوتے اور کہیں باہر جا کر میاں محمود احمد صاحب اپنے عقیدہ کو پھیلا کر دکھاتے اور پھر نئے سرے سے جماعت بنتی۔اور ترقی کرتی تو کچھ بات تھی۔(پیغام صلح ۱۵/ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۹ کالم (۳) خدا کی شان سے ۱۹۴ء کی ہجرت کے بعد حضرت امیر المومنین نے ربوہ میں عظیم الشان شهر بسا کرتا دیا کہ خلافت ثانیہ کا قیام محض خداتعالی کی ازلی مشیت کے تحت عمل میں آیا تھا نہ کہ کسی سازش یا قادیان کے بنے بنائے انتظام کے بل بوتے پر !!۔مثلا پٹیالہ میں ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب دوالمیال میں مولوی کرم داد صاحب لکھنو میں مرزا کبیر الدین صاحب اور سرگودھا و لائلپور کے علاقہ میں مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے فتنہ کے اثرات زائل کرنے میں خوب کام کیا۔۔اس حقیقت کے ثبوت میں صرف چند اقتباسات ملاحظہ ہوں۔” ایک غیر معصوم انسان کو جو اپنی رشد کی عمر کو بھی نہیں پہنچا اپنا پیر اور رہبر بنا لیا " (المندی نمبر ۲ صفحه ۳۵) " اب وہ پچیس سال کے نو عمر جو ان کے غلام ہیں۔کیونکہ وہ موجودہ خلیفہ صاحبزادہ صاحب کے ساتھ کامل اطاعت کی بیعت کر چکے ہیں پس وہ ایک گونہ ایک بچے کے دائگی غلام بن گئے۔(پیغام صلح ۱۶ / اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۲ کالم ۲) یہ ہے وہ ہٹ کا پکا اولو السٹ جس کو غلطی سے اولو العزم پکارا جاتا ہے"۔(رسالہ انکشاف حقیقت صفحه ۴۹) ہم بخوبی جانتے ہیں کہ حضرت صاحب کے خاندان اور ان کے بعض معلقداروں کا گزارہ اسی قسم کا ہے کہ ان کی جائداد کی آمدنی اس کے واسطے کافی نہیں ہے اور نوکری وغیرہ تو انہوں نے نہیں کی ہے کہ باہر سے کوئی اور سبیل گزارہ کا نکال دیوے پس لاچارا ای آمدنی سے گزارہ کرنا پڑتا ہے۔جو سلسلہ کی طرف سے جاری ہے اور یہ ساری ضروریات اس وقت تک پوری نہیں ہو سکتیں تاوقتیکہ حضرت صاحب کے مرید ان کو نذرانہ مقررہ طور پر نہ دیویں۔پس اگر صاجزادہ صاحب ان کفر و فسق کے فتووں سے باز آجادیں تو ہم ان کے گزارے کے واسطے ایک مستقل صورت قائم کرنے کے واسطے تیار ہیں"۔(ٹریکٹ احمدی