تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 237
تاریخ احمدیت ، جلد ۴ 229 خلافت ثمانیہ کا چھٹا سال ۵۰ پیغام صلح ۲۴/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحه ج کالم - ۵۱ پیغام صبح ۲۷/ جنوری ۱۹۳۱ء صفحہ ۶ کالم -۲ ۵۳ مجد و کامل از خواجه کمال الدین صاحب) مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۰ء صفحه ۱۲۵ ۵۳ پیغام صلح ۲۷/ جنوری ۱۹۳۱ ء مولوی محمد علی صاحب کے مضمون کے چند فقرات یہ تھے۔" جو چند دوستوں میں تبلیغ کے طریق کار کے متعلق اختلاف تھا۔اسے کتاب میں لانا اور پھر بعض جگہ نا مناسب الفاظ میں انجمن اور اس کے کاموں کی طرف اشارہ کرنا بہت احباب کے لئے رنج کا موجب ہوا ہے۔(صفحہ 1 کالم) ۵۴ پیغام صلح ۱۲ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۳ کالم ، مجاہد کبیر صفحه ۴۱۱۔۵۵ مجاہد کبیر صفحه ۱۳۳ بحواله رسالہ میاں محمد صاحب کی کھلی چٹھی کے جواب کا تمہ از ناظر اصلاح وارشاد ربوہ) ۵۶ بحوالہ میاں محمد صاحب کی کھلی چٹھی کے جواب کا تمہ - صفحہ ۱۵-۱۷۔۵۷- بحوالہ میاں محمد صاحب کی کھلی چٹھی کے جواب کا تمہ صفحہ ۱۷۰۱۶ ۵۸ ایضا صفحہ ۲۶-۲۸ مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو مجاہد کبیر صفحہ ۳۴۶-۳۴۸۔۵۹ یہ الفاظ ڈاکٹر غلام محمد ( احمد یہ اللہ نکس لاہور) کے ایک سرکلر سے لئے گئے ہیں جو انہوں نے اپنے دستخط سے ۲۵ / مارچ ۱۹۵۹ء کو ارسال کیا اور جس کی ایک کاپی مؤلف کتاب کے پاس موجود ہے۔ان حضرات میں دوسرے اکابر غیر مبایعین کے علاوہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب بھی تھے۔جنہوں نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ "اگر میرے مرنے کے بعد میری اولاد ذکورواناث نابالغ رہ جائیں تو ان کی تعلیم و تربیت و تزویح وغیرہ کا انتظام بطور گارڈین کے خلیفہ وقت سلسلہ عالیہ احمدیہ کی سرپرستی میں کیا جائے "- المرقوم ۲۹/ جنوری ۱۹۰۹ء ( بحوالہ فرقان نومبر ۱۹۴۲ء صفحه ۱۲) انہی دنوں کسی نے مولوی صدر الدین صاحب سے پوچھا کہ یہ کیوں بنایا گیا ہے جو اب دیا۔الوؤں کی تسلی بھی تو چاہیئے۔" الحق متی ۹۱۴ عوم -- پیغام صلح ۵ مکی ۱۹۱۴ء صفحه ۳ کالم ۲۔۱۳ مجدد اعظم حصہ دوم صفحه ۱۰۷۹ پھر نوبت یہاں تک آپہنچی کہ یہ لوگ بہشتی مقبرہ کے لفظوں پر خفا ہونے لگے۔(ملاحظہ ہو پیغام صلح ۱۸ مئی ۱۹۲۹ء صفحه ۵) ۶۴ ۴/ پیغام صلح / جنوری ۱۹۳۷ء صفحہ ۸ کالم ۳۔۶۵ تقریر الحاج شیخ میاں محمد صاحب مطبوعہ پیغام صلح ۱ / فروری ۱۹۵۲ء صفحہ سے کالم - پیغام صلح ۵ / مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ا کالم ۳ ۶۷ پیغام صلح ۱۹ / اپریل ۱۹۱۴ء صفحه ۳ کالم ۲- بحوالہ الحق دہلی ۱۲۲ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۲ کالم - پیغام صلح ۲۴/ جنوری ۱۹۴۵ء صفحہ اکالم ۳۔۷- اشتهار ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء ا پیغام صلح ۲۲ / مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ اکالم ۳ ۷۲ کلید کلام الامام صفحه ۱۳۷ شائع کرده دار الکتب اسلامیہ احمد یہ اللہ نکس لاہور۔۷۳- ڈاکٹر بشارت احمد صاحب اولیاء اللہ میں سے تھے۔(پیغام صلح ۲۸/ / اپریل ۱۹۴۳ء صفحه ۳ کالم ۲) ۷۴ مولوی محمد علی صاحب احمدیت کے پہلے مجدد تھے۔(پیغام صلح ۲۶/ دسمبر ۱۹۵۱ء صفحہ ۹ از میاں محمد صاحب) حیرت یہ ہے کہ خود مولوی محمد علی صاحب نے ۱۹۱۴ء میں مصلح موعود کے جلد آنے سے صرف اس بناء پر انکار فرمایا تھا کہ " اب تو سو سال کے بعد ہی کوئی مجدد آئے گا"۔(ایک نہایت ضروری اعلان صفحه (۱۳) ۷۵- پیغام صلح ۱۲ / مئی ۱۹۴۰ء صفحہ ۸ کالم - - ۷۶- پیغام صلح ۲۹ / مارچ ۱۹۱۴ء کالم ۳ -