تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 227 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 227

تاریخ احمدیت جلد ۴ 219 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال کی صداقت یا اسلام کی حقانیت کے متعلق زید اور بکر کی رائے کو حکم بنانے کے لئے تیار نہیں ہوں گا۔اور ہر گز نہیں ہوں گا آپ لوگوں نے گناہ کیا ہے اور سخت گناہ کیا ہے۔بلکہ اپنے ایمانوں پر اپنے ہاتھوں سے تبر چلایا ہے "۔"عرفان الهی" حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا پہلے سالوں میں یہ معمول رہا تھا کہ جلسہ کے موقع پر اپنی پہلی تقریر میں تو عام نصائح فرماتے اور دوسری تقریر علمی مسئلہ پر ہوا کرتی تھی مگر دسمبر ۱۹۱۸ء کا جلسہ جو مارچ ۱۹۱۹ ء میں منعقد ہوا تھا۔اس میں پہلے دن تو حضور نے عرفان الهی" جیسے دقیق مضمون کو بڑی شرح وبسط سے بیان فرمایا۔اور عرفان الہی اور تزکیہ نفوس کے ذرائع بتاتے ہوئے نکات و معارف کا دریا بہا دیا۔اور دوسرے دن کی تقریر میں متفرق امور پر روشنی ڈالی پہلے دن کی تقریر ” عرفان اللی " کے نام سے چھپ چکی ہے۔نیا قبرستان احمدی بچوں اور غیر موصی احمدیوں کی تدفین کے لئے کوئی الگ قبرستان موجود نہیں تھا حضرت میر ناصر نواب صاحب نے جو ہمیشہ رفاہی کاموں میں دلچسپی رکھنے والے بزرگ تھے۔اس طرف توجہ فرمائی اور اس کے لئے دور الضعفاء ( ناصر آباد) سے متصل ایک قطعہ زمین کا انتظام کر دیا BAI - (متحدہ) ہندوستان میں زبر دست سیاسی ہیجان اور جماعت احمدیہ کا رویہ (متحدہ) ہندوستان کی تاریخ میں 1919ء کا سال اس لحاظ سے یادگار رہے گا کہ اس میں ایسے طویل و عریض ہیجان کا آغاز ہوا جس کی نظیر اس سے پہلے گزرے ہوئے کسی سال میں نظر نہیں آتی۔جنگ کے اختام نے دنیا میں ایک عام بیداری پیدا کر دی تھی۔اور چونکہ اس قسم کی بیداری کے ابتدائی مراحل میں بعض جو شیلی طبیعتیں حد اعتدال سے آگے نکل جاتی ہیں اس لئے اس کے انسداد کی غرض سے حکومت نے بعض احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیں اور 1919 ء کی ابتداء میں ایک " رولٹ بل " بھی پاس کرنے کی تجویز کی۔جس کے ذریعہ سے پریس پر خاص پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔حکومت کے اس اقدام پر ملک کے بیدار شدہ حصہ میں سخت ہیجان پیدا ہوا۔امپیریل پچھا یہ کونسل میں جن دنوں یہ بل پیش تھا ملکی اخباروں اور سیاسی جماعتوں نے اس کے خلاف زبر دست احتجاج کیا اور کونسل کے تمام ہندوستانی ممبروں نے اس کے خلاف ووٹ دیئے لیکن حکومت نے سرکاری اور نامزد عناصر کی مدد سے یہ بل پاس کر کے رولٹ ایکٹ " بنا دیا۔تمام ملک میں شدید ناراضگی کی لہر دوڑ گئی۔مسٹر گاندھی کی تحریک پر (جسے ستیہ گرہ کا نام دیا گیا) دودن (۳۰/ مارچ اور ۶ / اپریل ۱۹۱۹ء) ملک کے گوشے گوشے میں