تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 223 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 223

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ دو سرا باب (فصل ششم) 215 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال ربیع الاول ۱۳۳۷ھ تاربیع الاول ۱۳۳۸ھ ) (جنوری ۱۹۱۹ء سے دسمبر ۱۹۱۹ء تک) خلافت مانیہ کا چھٹا سال حضرت خلیفتہ جماعت کے مرکزی نظم و نسق میں اصلاح اور نظار توں کا قیام المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ نے 1919 ء میں اس وقت کے نظام سلسلہ احمدیہ کی مناسب اصلاح و ترمیم فرما کر اسے نہایت مفید بنا دیا سلسلہ احمدیہ کا پہلا مرکزی نظام (خلافت کی نگرانی میں ) صدر انجمن احمدیہ پر مشتمل تھا۔جو اپنی تفصیل کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تجویز فرمودہ نظام نہیں بلکہ خود انجمن کا قائم کردہ نظام تھا۔اس نظام میں مختلف صیغے ایک ہی سیکرٹری کے ماتحت اس طرح جمع تھے کہ ان صیغوں کے افسروں کو کوئی ذمہ دارانہ پوزیشن حاصل نہیں ہوتی تھی۔حتی کہ صدرانجمن احمدیہ کے مشوروں میں بھی ان افسروں کی آواز کا دخل نہیں ہو تا تھا۔بلکہ صدر انجمن احمدیہ کے جملہ انتظامی فیصلہ جات خالصت ایسے ممبروں کی رائے سے تصفیہ پاتے تھے۔جن کے ہاتھوں میں کسی انتظامی صیغہ کی باگ ڈور نہیں تھی۔پھر مجلس کے قواعد کی بنیاد ایسی طرز پر رکھی گئی تھی کہ جماعت کی نمائندگی کو اس میں کوئی دخل نہ تھا بحالیکہ حکومت کی سب سے خطرناک صورت یہی سمجھی گئی ہے کہ اول تو چند آدمی تمام لوگوں کے نمائندے قرار دے دیئے جائیں مگر دراصل وہ نمائندے نہ ہوں۔دوسرے انہیں یہ اختیار دے دیا جائے کہ خود ہی اپنے قائم مقام تجویز کر دیا کریں۔حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کی نظر اس امر تک پہنچ تو شروع میں ہی گئی تھی۔مگر اس خیال سے کہ کسی اور قسم کے نقصانات پیدا نہ ہو جا ئیں قائم شدہ نظام کو یک دفعہ بدل دینا پسند نہیں فرمایا۔بلکہ حضور نے کافی غور و فکر اور مقامی و بیرونی اہل الرائے احباب کے مشورہ کے بعد یکم جنوری ۱۹۱۹ء کو ایک متوازی نظام جاری فرمایا۔جس میں ہر شخص خلیفہ وقت کی براہ راست نگرانی و ہدایات کے تحت ایک مستقل صیغہ کا انچارج اور زمہ دار تھا اور پھر یہ سب انچارج