تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 216
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ سفرڈلہوزی 208 خلافت عثمانیہ کا پانچواں سال حضور ایدہ اللہ تعالٰی ڈلہوزی تشریف لے گئے اور ۲۲ / جون ۱۹۱۸ء سے ۱۷/ اگست ۱۹۱۸ء تک قیام فرمایا اور ایک آزاد خیال عیسائی کی خواہش پر اس سے گفتگو فرمائی اس دن حضور کی طبیعت ناساز تھی مگر جب دوران گفتگو میں اس نے سید نا نبی کریم ﷺ کی نیت پر حملہ کیا تو حضور نے جلالی رنگ میں ایسا مسکت جواب دیا کہ اسے بہت ہی ندامت سے خاموش سلام سلام ہو جانا پڑا پڑا۔اظہار حق اور حقیقت الامر " حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے قلم سے مولوی حضرت محمد علی صاحب کے بعض وساوس و اوبام کے ازالہ میں اظہار حقیقت " اور " حقیقت الامر" کے نام سے بالترتیب جولائی ۱۹۱۸ ء اور ستمبر ۱۹۱۸ء میں دو اہم رسائل شائع ہوئے۔۱۹۱۸ء میں جنگ عظیم کا انفلوئنزا کی عالمگیر و با میں جماعت کی بے لوث خدمت ایک نتیجہ انفلوئنزا کی صورت میں ظاہر ہوا۔اس وبا نے گویا ساری دنیا میں اس تباہی سے زیادہ تباہی پھیلا دی۔جو میدان جنگ میں پھیلائی تھی۔ہندوستان پر بھی اس مرض کا سخت حملہ ہوا۔اگرچہ شروع میں اموات کی شرح کم تھی۔لیکن تھوڑے ہی دنوں میں بہت بڑھ گئی اور ہر طرف ایک تہلکہ عظیم برپا ہو گیا۔ان ایام میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایت کے ماتحت جماعت احمدیہ نے شاندار خدمات انجام دیں۔اور مذہب وملت کی تیز کے بغیر ہر قوم اور ہر طبقہ کے لوگوں کی تیمار داری اور علاج معالجہ میں نمایاں حصہ لیا۔احمدی ڈاکٹروں اور احمدی طبیبوں نے اپنی آخریری خدمات پیش کر کے نہ صرف قادیان میں مخلوق خدا کی خدمت کا حق ادا کیا بلکہ شہر بہ شہر اور گاؤں بہ گاؤں پھر کر طبی امداد بہم پہنچائی۔اور عام رضا کاروں نے نرسنگ وغیرہ کی خدمت انجام دی اور غرباء کی امداد کے لئے جماعت کی طرف سے روپیہ اور خورد و نوش کا سامان بھی تقسیم کیا گیا ان ایام میں احمدی والسیر (جن میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی شامل تھے ) صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کر کے دن رات مریضوں کی خدمت میں مصروف تھے اور بعض صورتوں میں جب کام کرنے والے خود بھی بیمار ہو گئے اور نئے کام کرنے والے میسر نہیں آئے بیمار رضا کار ہی دوسرے بیماروں کی خدمت انجام دیتے رہے اور جب تک یہ رضا کار بالکل نڈھال ہو کر صاحب فراش نہ ہو گئے۔انہوں نے اپنے آرام اور اپنے علاج پر دوسروں کے آرام اور دو سروں کے علاج کو مقدم کیا۔یہ ایسا کام تھا کہ دوست دشمن سب نے جماعت احمدیہ کی بے لوث خدمت کا اقرار کیا۔اور تقریر و تحریر دونوں میں تسلیم کیا کہ اس موقع پر جماعت احمدیہ نے بڑی