تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 209 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 209

تاریخ احمدیت جلد ۴ 201 خلافت عثمانیہ کا چوتھا سال کامل اختلاف رکھتے ہوئے بھی اس قدر کہنے پر صداقت ہم کو مجبور کرتی ہے کہ انہوں نے خواجہ صاحب کے مباہلہ کا جواب نہایت معقولیت سے دیا ہے "۔اب خواجہ صاحب کی سنئے۔حضرت کے جواب پر انہوں نے گو ابتداء میں مسنون مباہلہ کی اکثر و بیشتر شرائط پر بظاہر آمادگی ظاہر کی۔مگر بالآخر یہ کہہ کر پیچھا چھڑا لیا کہ ”چند ماہ کا ذکر ہے میری اہل قادیان سے کچھ مخاطبت ہوئی تھی۔میں لگا تار تضیع اوقات نہیں کر سکتا تھا قادیان کی علانیہ گریز دیکھ لی اور سمجھ لی تو اس گفتگو کو ختم کر دیا۔اب وہ مذکورہ مباہلہ کی نسبت کچھ ہی لکھتے رہیں مطلق جواب نہ دیا جائے گا۔حالانکہ انہوں نے شروع میں چیلنج دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”اہل قادیان سے میری خانہ جنگی نہیں بلکہ جہانہ جنگی ہے سارے جہان کو جس قوت مریبی و فنائیہ کا خوف لگا ہوا ہے میں اس کو ختم کرنا چاہتا ہوں پروشیا کے قوائے تربیہ کا خاتمہ ہو جائے گا تو دنیا کو امن نہیں ملے گا جتنا کہ قادیان کی طاقت زیر و زبر ہونے سے مل سکتا ہے"۔(دیش ۲۴/ جنوری ۱۹۱۸ء) مسٹر انٹیگو کا اعلان اور مسلم اقلیت مسٹرمائیگو وزیر ہند نے ۲۰/ اگست ۱۹۱۷ء کو کے تحفظ کے لئے نئی جدوجہد کا آغاز اعلان کیا کہ حکومت کا منشاء ہندوستانیوں کو صرف انتظام حکومت میں شریک کرنا ہی نہیں بلکہ منتہائے مقصود یہ ہے کہ وہ حکومت خود اختیاری کے قابل ہو جائیں اور رفتہ رفتہ ملک کا پورا انتظام بالآخر ہندوستانیوں کو سونپ دیا جائے گا اس اہم اعلان سے ملکی سیاست میں ایک نیا انقلابی دور شروع ہوا۔جس کے بعد کانگرس کی تحریک جہاں اور زور پکڑ گئی وہاں مسلمان اقلیت کو اپنے مستقبل سے متعلق ایک صہیب خطرہ پیدا ہو گیا کہ اس کے تحفظ حقوق کے بغیر آزادی ان کی مستقل قومی ہستی کو ختم کر دے گی اور انگریز کے بعد ملک کی بھاری ہندو اکثریت کے ابدی غلام بن جائیں گے گیارہ سال قبل کا واقعہ ہے کہ نواب محسن الملک کی کوشش سے مسلمانوں کا ایک وفد یکم اکتوبر ۱۹۰۶ء کو شملہ میں لارڈ منٹو وائسرائے وگورنر جنرل کی خدمت باریاب ہوا اور اس نے ایک مفصل عرضداشت پیش کی اور کہا۔” جو طریقہ نیابت و قائم مقامی کا یورپ میں رائج ہے وہ اہل ہند کے لئے بالکل نیا ہے۔ہماری قوم کے بعض دور اندیش افراد کا خیال ہے کہ اس طریقہ کو ہندوستان کی موجودہ سیاسی اور تمدنی حالت پر کامیابی کے ساتھ منطبق کرنے کے لئے نہایت حزم احتیاط و مال اندیشی سے کام لینا پڑے گا ورنہ) منجملہ اور خرابیوں کے ایک بہت بڑی خرابی یہ پیش آئے گی کہ ہمارے قومی اغراض کا سیاہ و سفید ایک ایسی جماعت کے حوالہ ہو جائے گا جسے ہمارے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے نیز کہا۔”قومی حیثیت سے ہم مسلمانوں کی ایک