تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 208 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 208

تاریخ احمدیت جلد ۴ 200 خلافت ثانیہ کا چوتھا سال بارے میں مباہلہ کے لئے بالکل تیار ہوں۔آیت مباہلہ سے ثابت ہے کہ دلائل کے اظہار کے بعد مباہلہ ہوتا ہے اس لئے ضروری ہو گا کہ مباہلہ سے پہلے دونوں اپنے اپنے عقائد پر تقریر کر لیں۔مباہلہ میں شرط ہو گی کہ عذاب انسانی دخل سے پاک ہو گا۔اس مباہلہ کا ظاہر ہونا یوم مباہلہ سے ایک سال کے عرصہ میں ضروری ہو گا ہاں خواجہ صاحب کو اجازت ہوگی کہ آپ ایک گھنٹہ یا آدھ گھنٹہ کا وقت مقرر کرلیں۔آیت قرآنی کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے اور سنت رسول" کے مطابق ضروری ہو گا کہ کم سے کم سرگروہ اپنے بیوی اور بچوں کو مباہلہ میں شامل کریں۔ان بنیادی شرائط کے علاوہ آپ نے مباہلہ کا اثر وسیع کرنے اور فریقین کے لئے منحرف ہونے کی راہ مسدود کرنے کے لئے ایک شرط یہ رکھی کہ دونوں طرف سے ایک ایک ہزار آدمی شامل مباہلہ ہوں۔دوسرے پانچ پانچ ہزار روپیہ بطور ضمانت کسی ثالث کے پاس رکھ دیا جائے۔حضرت خلیفہ ثانی نے خواجہ صاحب کو ان کے طریق مباہلہ کی طرف توجہ دلائی کہ "یہ طریق فیصلہ کہاں سے ایجاد کیا گیا ہے۔اس قسم کا مقابلہ کسی ولی کسی بزرگ کسی نبی کے طریق عمل سے ثابت نہیں خواجہ صاحب فیصلہ کا طریق مخفی طاقتوں اور غیبی تصرفوں کا استعمال اور باطنی قوت کے حربوں کے دار بتاتے ہیں لیکن ہم قرآن کریم میں بار بار یہی لکھا پاتے ہیں کہ عذاب کا لانا کسی انسان کے اختیار میں نہیں پس جب کسی انسان کے اختیار میں یہ بات ہی نہیں تو اپنی طرف سے اس کے قواعد بنانے اور غیبی تصرفات کا دعویٰ کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے"۔خواجہ صاحب کا چیلنج اور حضرت اقدس کا جواب پلک کے سامنے آیا تو مولوی ظفر علی خاں نے بچوں کا کھیل اور اسلام سے تمسخر کے دہرے عنوان سے لکھا۔” جناب طریقت ماب تقدس انتساب خواجہ حسن نظامی قدس سرہ کو اگر جد امجد کا۔۔۔طریق کار بھی پسند نہ تھا۔تو قرآن کریم کی وہ عام ہدایت کیا ان کے لئے بہترین معیار عمل نہ تھی۔کہ اذا تنازعتم في شئ فردوه الى الله و الرسول جب کسی چیز میں مشکل منازعت نکل آئے اور تم میں نزاع ہو جائے تو اس معاملہ کو اللہ و رسول (ﷺ) کی جانب لوٹاؤ۔یعنی قرآن کریم اور سنت حسنہ نبویہ پر اس کو پیش کرو کہ تم مسلمان ہو تو کتاب و سنت سے اچھا حج تمہیں کون سا ملے گا۔مگر ہمارا ہندوستان کا بادا آدم ہی نرالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں ایک گروہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے ایک دوسرے گروہ کو کہ اسے بھی قائل اسلام ہونے کا ادعا ہے۔مباہلہ کی لعنت آفرین دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ آؤ فلاں پیر کی چہار دیواری میں بیٹھ کر ہم تم ایک دوسرے کو بد دعائیں دیں اور ایک گھنٹہ کے اندر اندر ملاء اعلیٰ سے عزرائیل کو بلا کر اپنی جبل الورید اس کے نشتر کے حوالہ کر دیں خلیفہ قادیان جناب میرزا بشیر الدین محمود سلمہ کے عقائد سے