تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 210 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 210

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 202 خلافت عثمانیہ کا چوتھا سال tt جدا گانہ جماعت ہے جو ہندوؤں سے بالکل الگ ہے "۔حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی ابتدائے خلافت ہی سے جماعت کو سیاست سے الگ رہنے کی پر زور تلقین فرماتے اور بتاتے آرہے تھے کہ ہم مذہبی جماعت ہیں ہمیں سیاست کے دھندوں سے کنارہ کش ہو کر تبلیغ اسلام و احمدیت میں مصروف رہنا چاہئے۔لیکن اب جو برطانوی حکومت کی طرف سے نئی پالسی کا اعلان ہوا اور مسلم اقلیت کے حقوق خطرے میں پڑنے لگے۔تو حضور محض اسلامی ہمدردی کی بناء پر مسلمانوں کی ترجمانی اور ان کے مفاد کے تحفظ کے لئے میدان عمل میں آگئے۔اور آپ نے مصم فیصلہ کر لیا کہ ملکی امن کو برقرار رکھنے کے لئے حکومت سے تعاون بھی جاری رکھیں گے اور مسلم حقوق کو بھی پامال نہیں ہونے دیں گے۔اور تمام ممکن اخلاقی اور آئینی ذرائع سے مسلم اقلیت کے جدا گانہ وجود کو قائم و بر قرار رکھنے کی کوشش کا کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کریں گے اور جیسا کہ آنے والے واقعات سے پتہ چلے گا حضور نے ہرا ہم قدم پر مسلمانوں کی صحیح ترجمانی اور نمائندگی کا حق ادا کر دیا۔اس سلسلہ میں حضور نے پہلا قدم مسٹرما نمیگو وزیر ہند کے ہندوستان آنے پر اٹھایا جب کہ انہوں نے ہندوستان کی مختلف جماعتوں کو دہلی میں آکر ریفارم سکیم گورنمنٹ کے سلسلہ میں ایڈریس پیش کرنے کا موقعہ دیا تھا تا آزادی سے متعلق برطانوی سکیم کو بروئے کار لایا جاسکے۔حضور اس موقعہ پر بنفس نفیس ۱۳/ نومبر ۱۹۱۷ء کو دہلی تشریف لے گئے اور جماعت احمدیہ کے بعض سر بر آوردہ ممبر بھی دہلی میں بلوا لئے۔حضور کی ہدایت کے مطابق ۱۵/ نومبر ۱۹۱۷ء کو ایک احمد یہ وفد B نے مسٹرما نمیگو سے ملاقات کی۔اور چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے وفد کی طرف سے ایڈریس پیش کیا۔جس میں ملکی شورش کے مختلف اسباب و وجوہ پر روشنی ڈالنے کے بعد اور آئندہ سیلف گورنمنٹ " کے طریق انتقال سے متعلق مشورہ دیا کہ " انتخاب کا کوئی ایسا طریق نہ رکھا جائے کہ جس میں قلیل التعداد جماعتیں نقصان میں رہیں ایسے تمام صوبوں میں جہاں کوئی قلیل التعداد جماعت خاص اہمیت رکھتی ہو اور اس کی تعداد اس قدر کم ہو کہ اس کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اس جماعت کو اس تعداد سے زیادہ ممبروں کے انتخاب کا حق دیا جائے جس قدر کہ بلحاظ تعداد کے اس کے حصوں میں آتے ہیں۔جیسا کہ پنجاب دبنگال کے سوا باقی صوبوں میں مسلمان اور پنجاب میں سکھ اور بمبئی میں پارسی اور مدراس میں عیسائی ہیں اور سرحدی صوبہ میں اگر کبھی اس کو آئینی حکومت ملی تو ہندو ہیں مگر یہ حق ایسی قلیل التعداد جماعتوں کو جو زیادہ قلیل نہیں ہیں ہرگز نہیں ملنا چاہئے۔کیونکہ اس حق سے ان جماعتوں کو جو قلیل کثرت رکھتی ہیں سخت نقصان پہنچائے گا مثلا اگر بڑی تعداد والی قلیل التعداد جماعتوں کو بھی یہ حق دیا جاوے۔تو ہندوؤں کو تو جن کی میجارٹی جہاں ہے بہت زیادہ کوئی نقصان