تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 179 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 179

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 171 اگر چہ اس فیصلہ میں نماز باجماعت ادا کرنے کی اجازت تو احمدیوں کو نہیں دی گئی۔لیکن چونکہ اجازت کا نہ دیا جانا اس وجہ سے نہیں تھا کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں بلکہ احمدیوں کو مسلمان تسلیم کر کے فساد ہو جانے کے خدشے کی وجہ سے تھا اس لئے احمدیوں کی بات کو اس فیصلہ سے ذرا نقصان نہیں ہوا بلکہ ان کی ہمت زیادہ اور حوصلہ بہت بلند ہو گیا۔اور باوجودیکہ وہ اس موقعہ پر قریبا پندرہ ہزار کی رقم کثیر خرچ کر چکے تھے جس میں نمایاں حصہ محمد صدر علی صاحب ما زور صاحب اور بھنوں براور ز نے لیا تھا انہوں نے ۱۹۲۳ء میں نئی مسجد بنائی - ۲۲-۱۹۶۱ء میں خود احمدیوں نے اپنے ہاتھوں اس کی دوبارہ تعمیر کی اور اب یہ ماریشس کی دو منزلہ خوبصورت ترین مسجد شمار کی جاتی ہے۔حالات مقدمہ بیان کرنے کے بعد اب ہم دوبارہ ماریشس مشن کے ابتدائی واقعات کی طرف آتے ہیں۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت صوفی صاحب نے ماسٹر نور محمد صاحب کے مکان میں احمدیت کی تبلیغ شروع کر دی۔روزبل سے پانچ میل کے فاصلہ پر سینٹ پیٹر (St۔Pierre) ہے جہاں معزز اور متمول بھنو خاندان آباد تھا۔حضرت صوفی صاحب اس خاندان کی دعوت پر دوبارہ سینٹ پیئر تشریف لے گئے۔جہاں آپ نے قرآن مجید اور دوسرے اسلامی لٹریچر سے ایسی مدلل گفتگو فرمائی کہ ایک دن میں اس خاندان کے سب افراد بیعت میں داخل ہو گئے اس واقعہ سے جزیزہ بھر میں ایک شور عظیم برپا ہو گیا۔اور روزہال کے کئی مسلمانوں نے بھی بیعت کرلی۔بھنو خاندان نے خواہش ظاہر کی کہ قادیان سے ایک عالم خاص ان کے خاندان کی ضروریات کے لئے انہی کے اخراجات پر بلایا جائے۔چنانچہ مرکز سے حضرت مولوی حافظ عبید اللہ صاحب ۴ اراسته به ۱۹۱۷ء کو روانہ ہوئے۔اور مع اہل بیت کے ماریشس تشریف لے گئے اور بہت اخلاص اور جانفشانی سے نوجوانوں کو پڑھانے لگے۔روزانہ رات کو درس دیتے۔ہفت روزہ اجلاس کر کے ان کو تقریر کی مشق کراتے اس کے علاوہ عام تبلیغی کاموں میں حضرت صوفی صاحب کا ہاتھ بٹاتے۔افسوس دسمبر ۱۹۲۳ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔اور ان کو ماریشس ہی میں پائی کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔حضرت مولانا عبید اللہ صاحب عہد خلافت ثانیہ کے پہلے شہید ہیں جنہوں نے اعلائے کلمتہ اللہ کرتے ہوئے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور جام شہادت نوش فرمایا۔مئی ۱۹۱۷ ء میں حضرت صوفی صاحب نے چار نوجوانوں کو تحصیل علم کے لئے قادیان بھیجوایا جن میں سے دو ( پیر محمد صاحب اور الیاس اکبر علی صاحب) قادیان میں رحلت کر کے بہشتی مقبرہ میں دفن کئے گئے۔۲۸/ اپریل ۱۹۱۸ء کو آپ کا پورٹ لوئیس کے امام جامع کے ساتھ ایک کامیاب مناظرہ ہوا 1