تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 180 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 180

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 172 خلافت ثانیه کادو سرا سال ۱۹۲۶ء میں آپ دو ہفتہ کے لئے مڈغاسکر تشریف لے گئے اور وہاں پیغام حق پہنچایا۔حضرت صوفی صاحب قریباً تیرہ سال تک ماریشس میں رہے۔اس عرصہ میں آپ نے جزیرہ میں احمدیت کا سکہ بٹھا دیا۔آپ کو تبلیغ کا جنون تھا اور دشمن تک آپ کی قابلیت کے معترف تھے۔آخر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم سے ۳/۴ مارچ ۱۹۲۷ء کو آپ احمد حسن صاحب 1 سوکیہ کے ہمراہ ماریشس سے چل کر ۱۹ مارچ ۱۹۲۷ء میں وارد قادیان ہوئے۔آپ کی واپسی کے بعد حضرت اقدس نے حافظ جمال احمد صاحب کو بھیجوایا۔جو ۲۷/ جولائی ۱۹۲۸ء کو ماریشس پہنچے۔اور اکیس (۲۱) برس تک نہایت درجہ اخلاص و فدائیت سے تبلیغ کا کام کرتے ہوئے ماریشس ہی میں ۲۷/ دسمبر ۱۹۴۹ء کو انتقال فرما گئے۔"سینٹ پیٹر " میں آپ کا مزار مبارک ہے۔حافظ جمال احمد صاحب کے سانحہ شہادت کے بعد حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالٰی نے بالترتیب مندرجہ ذیل مبلغین کو ماریشس روانہ فرمایا۔-۱- حافظ بشیر الدین صاحب (ابن مولوی عبید اللہ صاحب) آپ ۳/ جولائی ۱۹۵۱ء کو ماریشس پہنچے۔اور ۱۳/ اپریل ۱۹۵۵ء کو واپس تشریف لائے۔(۲) مولوی فضل الہی صاحب بشیر۔آپ نے پہلی بار ۱۲ فروری ۱۹۵۵ء کو ماریشس میں قدم رکھا۔(اور کچھ عرصہ کے وقفہ سے) اب تک فریضہ تبلیغ بجالا رہے ہیں۔-1 (۳) مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر ۸/ دسمبر ۱۹۶۰ ء ماریشس پہنچے اور تبلیغی فرائض انجام دینے کے بعد ۸ / ستمبر ۱۹۶۲ء کو مرکز میں آئے۔ماریشس مشن نے فرانسیسی زبان میں اسلام و احمدیت کے لٹریچر کی بکثرت اشاعت کی ہے۔حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی بعض تصانیف کا فرانسیسی ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔قرآن کریم کا فریح ترجمہ بھی اس مشن کے زیر انتظام چھپ رہا ہے۔روزہل میں ۱۶ / جنوری ۱۹۶۲ء کو فضل عمر کالج کا اجراء ہوا۔مئی ۱۹۶۲ء میں Le Manage نامی اخبار کا اجراء ہوا۔اور جزیرہ کے چھ مقامات روزال فونکس سینٹ پیٹر - موتین بلانش - تریولے اور پائی میں احمدی مساجد موجود ہیں۔جماعت احمدیہ ماریشس کے بعض ممتاز احمدیوں کے نام یہ ہیں۔احمدید اللہ بھنو - عبد الستار سوکیہ۔مسٹر حنیف جواہر۔عباس کالو اسی سال حضرت میر محمد اسحق حضرت میر محمد اسحق صاحب کا درس بخاری شریف صاحب نے درس بخاری