تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 178 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 178

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 170 خلافت ثانیه کادر سراس روانہ ہو کر حیدر آباد ید راس ہوتے ہوئے ۱۴/ مارچ ۱۹۱۵ء کو کولمبو پہنچے۔یہاں آپ نے تین ماہ قیام فرمایا۔اور شبانہ روز تبلیغی کوششوں کے نتیجہ میں معمر اور تعلیم یافتہ اشخاص پر مشتمل جماعت قائم کرلی۔اور کولمبو اس کا مرکز بنا اور آپ اس کے پہلے آنریری پریذیڈنٹ مقرر ہوئے TORE حضرت صوفی صاحب ۱۵ جون ۱۹۱۵ء کو ماریشس کی بندرگاہ پورٹ لو کیس پہنچے ابھی آپ جہاز ہی میں تھے کہ ماریشس کے ایک اخبار (LE PETIT JOURNAL) نے حکومت سے آپ کی واپسی کا مطالبہ کر دیا۔مگر یہ کوشش ناکام ہوئی۔مکرم ماسٹر نور محمد صاحب نے جہاز پر آپ کا استقبال کیا اور اپنے مکان پر لے آئے۔چند ماہ تک اسی مکان میں جمعہ اور اجتماعات ہوتے رہے اور یہیں سے حضرت صوفی صاحب کی تبلیغ سے احمدیت کی شعائیں تمام جزیرہ میں پھیلنی شروع ہو گئیں۔ماسٹر نور محمد صاحب کے مکان سے متصل غیر احمدیوں کی ایک بڑی مسجد تھی جہاں حضرت صوفی صاحب اور ماسٹر صاحب صبح کی نماز پڑھا کرتے تھے ۴ فروری ۱۹۱۶ء کو آپ قریبا دس بارہ احمدیوں کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھنے کے لئے اس مسجد میں گئے۔پہلے غیر احمدیوں نے نماز پڑھی پھر آپ نے نماز پڑھائی۔نماز مغرب سے فارغ ہو کر آپ نے عشاء کی نماز تک تقریر فرمائی جو سامعین کو بہت پسند آئی۔تقریر سننے والوں میں مسجد کے پریذیڈنٹ جناب احمد حاجی سلیمان اچھا صاحب بھی تھے جو اس درجہ متاثر ہوئے کہ عشاء کی نماز انہوں نے حضرت صوفی صاحب کی اقتداء میں ادا کی۔اس کے بعد حضرت صوفی صاحب اور دوسرے احمدی احباب پانچوں وقت کی نمازیں اور نماز جمعہ بھی اسی مسجد میں ادا کرنے لگے۔غیر احمدی اصحاب نماز جمعہ پہلے پڑھ لیتے تھے۔پھر حضرت صوفی صاحب خطبہ دیتے اور نماز جمعہ پڑھاتے تھے چار پانچ ہفتے کے بعد اس مسجد کے امام جناب میاں جی احمد صاحب نے یہ دیکھ کر کہ حضرت صوفی صاحب کی تقریر میں اسلامی تعلیم کے بالکل مطابق ہوتی ہیں خود بھی حضرت صوفی صاحب کی اقتداء میں نمازیں پڑھنی شروع کر دیں۔قریبا تین ماہ گزرنے کے بعد غیر احمدیوں نے یکا یک مسجد میں آنا ترک کر دیا۔اور دوسری جگہ نمازیں پڑھنے لگے۔اور نو ماہ بعد (۶/ ستمبر ۱۹۱۸ء کو) عدالت عالیہ میں یہ دعوی دائر کر دیا کہ احمدی مشرک ہیں ان کو اسلامی تعلیم کی رو سے مسجد میں داخلہ کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔یہ مقدمہ قریبا دو سال تک چلتا رہا اور اس کی ستر کے قریب نشستوں میں متنازعہ فیہ مسائل پر پوری اور سیر حاصل بحث ہوئی اور احمدیت کا خوب چرچا ہوا۔آخر نومبر ۱۹۲۰ء کو عدالت عالیہ نے یہ فیصلہ دیا کہ احمدی مسلمان ہیں۔لیکن چونکہ غیر احمدی بھی اسی مسجد میں نماز پڑھنا چاہتے ہیں اور اکثریت بھی انہیں کی ہے اس لئے احمدیوں کو اس مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔کہ اس میں فساد کا اندیشہ ہے 404-