تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 162
تاریخ احمدیت جو 154 خلافت ثانیہ کا پہلا سال حضور نے اپریل ۱۹۱۴ء کے آخری ہفتہ میں "شکریہ اور شکریہ اور اعلان ضروری" اعلان ضروری" کے عنوان سے ایک مضمون لکھا۔جس میں ۱۸۵ کثیر حصہ جماعت کے ایک مرکز پر جمع ہو جانے کا شکریہ ادا کیا۔اور "انجمن ترقی اسلام" کے مقاصد پورے کرنے کے لئے اللی تحریک سے جماعت سے بارہ ہزار روپیہ کی اپیل فرمائی اور جماعت کو زور دار و دل نشین الفاظ میں یقین دلایا۔کہ " اس وقت دشمن کہہ رہا ہے کہ اب احمدیت گئی لیکن اللہ تعالٰی چاہتا ہے کہ آگے سے بھی زیادہ اسے ترقی دے اور اسلام کے شید ا خوش ہو جائیں کہ اب خزاں کے بعد بہار آنے والی ہے اور مسیح موعود کے وعدوں کے پورے ہونے کے دن آگئے ہیں " حضور نے یہ اعلان شکریہ " کاتب کو دینے سے پہلے جب درس قرآن کے وقت سنایا تو اللہ تعالٰی نے جماعت قادیان کے دلوں میں ایسا جوش پیدا کر دیا کہ اس نے دو سرے ہی دن عام جلسہ کر کے تین ہزار کے قریب و عدے لکھوائے اور اعلان کی اشاعت سے پہلے ہی پانچ سو روپے سے زائد وصول بھی ہو گئے۔بعض مخلصین نے اپنی ساری زمین تبلیغ اسلام کے لئے وقف کر دی۔بعض نے اپنا کل اندوختہ نذر کر دیا۔کئی دوستوں نے اپنی ایک ایک ماہ کی تنخواہ پیش کر دی۔عورتوں نے بھی اس مالی قربانی کی پہلی تحریک میں مردوں کی طرح حصہ لیا۔حضرت ام المومنین نے ایک سو روپیہ دیا۔بعض مستورات نے اپنے زیور تک پیش کر دیئے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی کو اہل قادیان کی اس شاندار قربانی سے پہلے ہی دکھا دیا گیا تھا کہ " ایک شخص عبد الصمد کھڑا ہے اور کہتا ہے مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت تم پر خلافت کی رحمتیں LAY یا برکتیں نازل ہوتی ہیں۔۱۸۹ تبلیغی کلاسوں کا اجراء IAA ایک طرف تو مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پائے ہوئے مبلغین کے میدان عمل میں آنے کے لئے ابھی کچھ وقت درکار تھا۔کیونکہ اس سال صرف مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل (حال امیر جماعت احمدیہ قادیان) اور مولوی احمد بخش صاحب ہی عالم ہو کر نکلے تھے۔دوسری طرف جماعتی حالات کا تقاضا تھا کہ ملک میں تبلیغ کا کام جلد سے جلد تیز سے تیز تر کر دیا جائے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالٰی نے اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تبلیغی کلاسیں جاری کئے جانے کی ہدایت فرمائی جس کا کورس ترجمہ قرآن شریف، مشکوۃ اور قدوری تھا۔یہ کلاسیں مسجد مبارک اور مسجد اقصیٰ میں دو وقت کھلتی تھیں۔اور حضرت قاضی امیر حسین صاحب۔حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب حضرت حافظ روشن علی صاحب - حضرت میر محمد اسحاق صاحب حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری اور حضرت صوفی غلام محمد صاحب پڑھاتے تھے - | 44×