تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 163 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 163

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 155 خلافت ثانیہ کا پہلا سال "تحفتہ الملوک" حضرت خلیفتہ النبی الثانی ایدہ اللہ تعالی کو ایک خواب میں تحریک ہوئی کہ شاہ دکن کو تبلیغ فرمائیں۔اس پر آپ نے جون ۱۹۱۴ء میں کتاب " تحفہ 141 الملوک " تصنیف فرمائی اور نہایت خوبصورت و دلکش رنگ میں چھپوا کر شاہ دکن کو ارسال فرمائی اور بعض اراکین سلطنت کو بھی بھیجی گئی اور اس کی سینکڑوں کا پیاں وہاں کے مختلف طبقوں میں بھی تقسیم کی گئیں اس کام کے لئے پہلے تو حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی موجد مفرح عنبری اور بعد کو حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب حیدر آباد بھیجے گئے جو تین ماہ تک وہاں تبلیغ کرتے رہے۔اس کے بعد حضور نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت مولانا حافظ روشن علی صاحب گوروانہ فرمایا "تحفۃ الملوک کی روحانی تاثیرات و برکات ہی کا نتیجہ تھا کہ سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کو ۹/ اپریل ۱۹۱۵ ء کو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی توفیق ملی۔حضرت سیٹھ صاحب اپنی صورت و سیرت اور اوصاف گوناگوں کے لحاظ سے نہایت دلکش بزرگ تھے۔آپ نے مختلف زبانوں میں سلسلہ احمدیہ کا لٹریچر بہت کثرت سے شائع فرمایا جس سے انگریزی دان طبقہ میں خوب تبلیغ ہوئی۔آپ کے قبول حق سے پہلے حضور ایدہ اللہ تعالٰی کو ایک رویا میں دکھایا گیا۔کہ آپ ایک تخت پر بیٹھے ہیں اور آسمان سے ایک نور ان کے دل پر گر رہا ہے اور وہ ذکر الہی میں مصروف ہیں ۱۹۲ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کادوسرا نکاح ۱۳۱ مئی ۱۹۱۴ء کا دن نہایت مبارک دن تھا۔کیونکہ اس روز حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالٰی کا نکاح حضرت خلیفہ اول کی دختر نیک اختر امتہ الحی صاحبہ سے ہوا۔خطبہ نکاح حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے پڑھا۔مہر ایک ہزار روپیہ قرار پایا۔میاں عبدالحی صاحب صاجزادی صاحبہ کے ولی تھے جب آپ سے نکاح کی منظوری کی نسبت دریافت کیا گیا تو آپ نے مختصر الفاظ میں تقریر فرمائی جسے سن کر بعض اصحاب کے آنسو نکل آئے۔آپ نے کہا۔" میں آپ صاحبان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت خلیفتہ المسیح اول وہ انسان تھے جنہوں نے اپنی عمر اپنامال اپنی جان آپ لوگوں کے لئے قربان کر دی۔ان کی چیزیں تمہاری چیزیں ان کا مال تمہار ا مال ان کی جائداد تمہاری جائداد ہے اس لئے پہلے اس کے کہ ان کی ایک امانت کو کسی کے سپرد کروں آپ سے یہ (پوچھنا) چاہتا ہوں کہ کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں اس امانت کو سپرد کروں یہ بات کہنے پر چاروں طرف سے آواز میں آئیں کہ بے شک آپ کو اجازت ہے۔بہت بابر کت بات ہے اس پر میاں عبدالحی صاحب نے کہا کہ جب آپ سے مجھے اجازت ہے تو میں کمال خوشی سے یہ بات قبول کر کے ہاں کہتا ہوں "۔