تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 161 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 161

تاریخ احمدیت جلد ۴ 153 خلافت عثمانیہ کا پہلا سال ہے میری رائے میں وہ نہ صرف یہ کہ دشمن مسیح نہ تھے بلکہ انسانیت کے نجات دہندہ تھے میرا ایمان ہے کہ اگر موجودہ زمانہ میں محمد جیسا انسان دنیا کا آمر بن جائے تو وہ ہمارے زمانہ کی مشکلات کا ایسا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔جس کے نتیجہ میں حقیقی مسرت اور امن حاصل ہو جائے اب یورپ محمد" کے مذہب کے اصولوں کو سمجھنے لگا ہے اور آئندہ صدی میں یورپ اس بات کو اور زیادہ تسلیم کرے گا کہ اسلام کے اصول اس کی الجھنوں کا حل کر سکتے ہیں۔میری پیشگوئی کو ان حقائق کے ماتحت سمجھنا چاہئے موجودہ وقت میں بھی میری قوم اور یورپ کے کئی لوگ اسلام اختیار کر چکے ہیں اور کہا جاسکتا ہے کہ یورپ کے اسلامی بننے کا آغاز ہو چکا ہے۔" ای طرح مشہور مورخ پروفیسر ٹائن بی Professor Toynbee) لکھتا ہے۔(ترجمہ) مغرب سے ٹکراؤ کے نتیجہ میں اب اسلام میں پھر جوش پیدا ہو رہا ہے اور اس میں ایسی روحانی تحریکات جنم لے رہی ہیں۔جو ممکن ہے آئندہ جا کر عالمگیر مذہب اور تہذیب کی بنیاد بن جائیں مثلاً احمد یہ تحریک ہے (ملخص) یادر ہے یہ انگلستان کے دانشمندوں کا بیان ہے جہاں آج سے قریبا ستر برس پہلے میڈیکل مشن فنڈ کر چین مشنری سوسائٹی لندن کے ڈاکٹر ہربرٹ (Dr۔Herbert) نے عیسائی پادریوں کی ایک کا نفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا۔" فرض کرو لنڈن کے کسی علاقے میں کوئی مسلمان آوارہ ہو جو اجنبی کپڑوں میں ملبوس ہو۔ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولتا ہو۔اور وہ ہمیں یہ بتانے کی کوشش کرے کہ محمد خدا کا سچا رسول ہے اور یہ کہ اب ہم یسوع مسیح کی بجائے اس پر ایمان لائیں۔ذرا سوچو تو سہی اس مسلمان کا کیا حشر ہو گا۔یہی کہ چھوٹے چھوٹے بچے اس پر کیچڑ اچھالتے پھریں گے۔HAP tt حضرت اقدس سیدنا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بلاد اسلامیہ کے لئے عربی ٹریکٹ ایک عربی الہام میں خبر دی گئی تھی کہ رومی سلطنت کسی IAM وقت بیرونی دشمنوں سے مغلوب ہو جائے گی مگر اللہ تعالٰی کے فضل سے پھر غلبہ پائے گی - حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے بلاد اسلامیہ میں اس کی اشاعت کرنے کے لئے " الدین الحی" (زندہ مذہب) کے نام سے عربی زبان میں ایک ٹریکٹ لکھا۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کے ظہور پر روشنی ڈالی اور تمام عالم اسلام کو حضور علیہ السلام کے دعوے پر ایمان لانے کی پر زور دعوت دی اور اعلان فرمایا کہ جو اصحاب مامور وقت کی صداقت سے متعلق تحقیق کرنا چاہیں۔وہ خط و کتابت کے ذریعہ سے بھی کر سکتے ہیں۔