تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 159 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 159

تاریخ احمدیت جلد ۴ 151 خلافت ثانیہ کا پہلا سال حنتوں نے عیسائیت پر زبر دست حملہ قرار دیا۔بشپ آف گلاسٹر کو دعوت متقدمعہ دی۔جارج ششم، کنگ پیٹر یوگوسلاویہ وغیہ کو تبلیغ کی۔مسٹرگرین سے ایک سال تک ہائیڈ پارک میں مناظرے کئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کی نگرانی میں قرآن مجید کے ڈچ ، روسی، اٹالین ، فرانسیسی ، پولش، جرمن اور پینش تراجم ہوئے جن میں سے جرمن اور ڈچ تراجم چھپ بھی چکے ہیں۔مولانا جلال الدین صاحب شمس ۱۵ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو قادیان تشریف لے آئے اور آپ کی جگہ چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ امام مسجد لندن بنے۔آپ کے عہد میں بھی لندن سے کافی لٹریچر شائع ہوا۔دسمبر ۱۹۴۵ء میں حضرت اقدس نے چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ کو لنڈن بھیجوایا جو ناب امام کی حیثیت میں کام کرنے کے بعد ۱۴ / اپریل ۱۹۴۹ء کو دارد پاکستان ہوئے اگلے سال ۳۰/ جون ۱۹۵۰ء کو آپ دوبارہ لندن روانہ ہوئے اور چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ آپ کو مشن کا چارج دے کر ۱۴ اگست ۱۹۵۰ء میں واپس آگئے۔اس زمانہ میں قریشی مقبول احمد صاحب (۲۴/ جنوری ۱۹۴۸ء تا ۹ ۱ دسمبر ۱۹۵۱ء) مشن کے سیکرٹری کی خدمت بجالاتے رہے۔مکرم سید محمود احمد صاحب ناصر۔(۱۱/ نومبر ۱۹۵۴ء تا ۴ / جولائی ۱۹۵۷ء) مشن کے سیکرٹری اور نائب امام کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔اس کے علاوہ ۱۶ / جولائی ۱۹۵۱ء کو چوہدری عبد الرحمن صاحب لنڈن مشن کے مالی مشیر کی حیثیت سے روانہ ہوئے۔چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ۱۴/ اپریل ۱۹۵۵ء کو واپس آگئے۔باجوہ صاحب کے دوران قیام میں مولود احمد خاں دہلوی ار ستمبر ۱۹۵۳ء کو لنڈن بھجوائے گئے۔جنہوں نے باجوہ صاحب کی واپسی کے بعد آٹھ سال تک کام کیا۔اپریل ۱۹۵۵ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ دوسری بار بغرض علاج یورپ تشریف لے گئے۔تو حضور کی صدارت میں ۲۲ تا ۲۴ / جولائی ۱۹۵۵ء کو بیرونی ممالک کے مبلغین کی ایک اہم کانفرنس ہوئی جس میں تبلیغی نظام کو زیادہ عمدگی سے چلانے کے لئے کئی تجاویز زیر غور آئیں اور اہم فیصلے ہوئے۔۱۸/ جنوری ۱۹۵۹ء کو خان بشیر احمد خان صاحب رفیق انگلستان روانہ ہوئے۔اور اس وقت آپ ہی مشن میں بطور مبلغ کام کر رہے ہیں۔۱۹۶۰ء سے آپ کی ادارت میں ایک رسالہ (The Muslim Herald شائع ہوتا ہے۔اسی طرح مکرم چوہدری رحمت خاں (اکتوبر ۱۹۶۰ء سے مارچ ۱۹۷۴ء تک) امام مسجد لنڈن کے فرائض انجام دیتے رہے۔ان مستقل کے علاوہ لنڈن میں باہر سے آکر آباد ہونے والے بعض احمدیوں مثلاً میر عبد السلام صاحب سیالکوٹی مرحوم حضرت با بوعبد العزیز صاحب مرحوم اور قریشی صلاح الدین صاحب مرحوم نے بھی ایک عرصہ