تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 160
تاریخ احمدیت جلد ۴ 152 خلافت عثمانیہ کا پہلا سال تک مشن کی آنریری خدمات انجام دی ہیں۔مشن کے نو مسلم احمدی جن میں سے مسٹر ناصر احمد، مسز علیمہ بلال اور مسٹر بلال نعل خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اسلامی تبلیغ و اشاعت میں ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں اور اب خدا کے فضل سے نصف صدی کے اندر اندر انگلستان میں لندن، برائٹن ، بریڈ فورڈ ، بلیک برن لیڈ ز، گلاسگو، پرشین ، ہڈرزفیلڈ ، آکسفورڈ، برمنگھم، شیفیلڈ ، ساؤتھ آل، مانچسٹر وغیرہ مقامات پر جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔لنڈن مشن نے انگریز نو مسلموں میں کتنا عظیم انقلاب برپا کیا ہے ؟ اس کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ ایک انگریز نو مسلم نے بتایا کہ " مجھے اسلام سے اتنی عداوت تھی کہ میں جب رات کو سوتا تھا۔تو محمد رسول اللہ اس کو گالیاں دے کر سوتا تھا مگر اب کسی رات مجھے نیند نہیں آتی۔جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیج دوں یہ تو اسلام لانے والے انگریزوں کے قلبی تغیر اور تبدیلی کا ایک نمونہ ہے جہاں تک برطانوی مدیروں اور مفکروں کی رائے اور تاثر کا تعلق ہے وہ احمدی مبلغین کی کوششوں کے نتیجہ میں اسلام کا مستقبل مغربی ممالک میں نہایت درجہ روشن اور تابندہ قرار دے رہے ہیں چنانچہ مشہور برطانوی مدبر جارج برنارڈ شاہ (۱۸۵۶ء-۱۹۵۰ء) نے لکھا ہے۔"The medieval ecclesiastics, either through ignorance or bigotry painted Muhammadanism in the darkest colours۔They were, in fact, trained to hate both the man Mohammad and his religion۔To them Muhammad was anti-Christ۔I have studied him, the wonderful man, and in my opinion, far from being an anti-Christ, he must be called the saviour of humanity۔I believe if a man like him wer to assume dictatorship of the modern worlk, he would succeed in solving its problems in a way that would bring in the much meeded peace and happiness۔Europe is beginning th be enamoured of the creedf Muhammad۔In the next centry it may go still further in recognising the Utility of that creed in solving its problems and it is in this sense that you must understand my prediction۔Already, even athe present time, many of my oun people and of Europe as well have come over to the faith of Muhammad۔And the Islamisation of Europe may be said th have begun۔A: ” قرون وسطی کے پادریوں نے یا تو جہالت کی وجہ سے یا تعصب کی بناء پر محمد کے دین کی نہایت تار یک تصویر کھینچی تھی۔فی الحقیقت انہیں محمد ( ﷺ ) اور اس کے مذہب سے نفرت کرنے کی ٹرینینگ دی گئی تھی ان کے نزدیک محمد کیسوع کے دشمن تھے۔لیکن میں نے اس عظیم الشان شخصیت کا مطالعہ کیا