تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 158
تاریخ احمدیت جلد ۴ 150 خلافت ثانیہ کا پہلا سال عموماً اور ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی خصوصاً موثر نمائندگی کا حق ادا کر دیا اور تحریک آزادی کشمیر کے حق میں برطانوی عوام اور برطانوی پارلیمینٹ میں آواز بلند کی۔اس زمانہ میں مسجد فضل لنڈن بر صغیر پاک و ہند کے مسلمان زعماء کا ایک خصوصی مرکز بن گئی تھی اور مسلمان لیڈر اپنے موقف کو کامیاب بنانے کے لئے مشن سے رابطہ پیدا کرنا ضروری سمجھتے تھے۔چنانچہ شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال، قائد اعظم محمد علی جناح اور دوسرے لیڈر مسجد فضل لنڈن میں جاتے تھے۔قائد اعظم محمد علی جناح جو گول میز کانفرنس کے بعد ہندو لیڈروں کی روش سے مایوس ہو کر لندن ہی میں بود و باش رکھنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی کی خواہش اور مولانا عبد الرحیم صاحب درد کی کوشش سے احمد یہ مسجد پٹنی میں آئے۔”ہندوستان کا مستقبل" (Future of India) کے مضمون پر لیکچر دیا اور ہندوستان جا کر پھر سے مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے پر آمادہ ہو گئے۔حضرت مولانا درد صاحب کے زمانہ ہی میں خاندان مسیح موعود کے صاحبزادگان یعنی حضرت 120 صاجزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صاجزادہ مرزا مظفر احمد صاحب صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا سعید احمد صاحب مرحوم وہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے تشریف لے گئے۔اسی زمانے میں (صاحبزادگان خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام) " الاسلام" کے نام سے ایک رسالہ نکالتے رہے۔اس رسالہ کی ادارت کے فرائض حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ہی انجام دیتے رہے۔یکم فروری ۱۹۳۶ء کو مولانا جلال الدین صاحب شمس اور ۲۶ / فروری ۱۹۳۶ء کو حضرت مولانا شیر علی صاحب بھی ترجمتہ القرآن کے سلسلہ میں لنڈن روانہ ہوئے۔ان بزرگوں کی بدولت مشن میں نئی زندگی کے آثار نمایاں ہونے لگے۔۹/ نومبر ۱۹۳۸ء کو حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد۔حضرت مولوی شیر علی صاحب اور تمام صاحبزادگان قادیان آگئے اور مولانا جلال الدین صاحب شمس انچارج مشن کے فرائض انجام دینے لگے۔مولانا شمس صاحب کے زمانہ میں دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی۔اور انگلستان پر بمباری ہونے لگی جس کی وجہ سے لاکھوں بچے اور عورتیں لنڈن چھوڑ کر دوسرے دیہات میں چلے گئے اور بمباری وغیرہ کی وجہ سے کئی دفعہ لیکچروں کا سلسلہ بند کرنا پڑا۔مگر ان نامساعد حالات میں بھی آپ نے اپنا کام جاری رکھا۔دارا تبلیغ میں مذہبی مسائل پر لیکچر دیئے۔ملک کی مشہور سوسائٹیوں میں شمولیت کی۔بیرونی ممالک سے آنے والی اہم شخصیتوں سے ملاقاتیں کیں اور پیغام حق پہنچایا۔”ہندوستان میں قبر صحیح" کے نام سے ایک اشتہار لاکھوں کی تعداد میں شائع کیا۔ایک اہم کتاب -? WHERE DID JESUS DIE - ( حضرت مسیح کہاں فوت ہوئے؟) تصنیف کی جسے عیسائی