تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 157
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 149 خلافت ثانیہ کا پہلا سال اکتوبر ۱۹۲۴ء کو مسجد فضل لندن کا سنگ بنیاد رکھا۔حضرت اقدس کے وجود باجود سے لندن مشن کو عالمگیر شہرت حاصل ہو گئی اور لندن کی مذہبی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔حضرت اقدس نومبر ۱۹۲۴ء کو اپنے قافلہ کے خدام نیز حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کو ساتھ لے کر واپس تشریف لے آئے اور مشن کے انچارج حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب (سابق رحیم بخش صاحب) در داوران کے نائب ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے مقرر ہوئے۔حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد کے تقرر کے ساتھ ہی رسالہ ” ریویو آف ریلیجر " قادیان کی بجائے لندن سے نکلنے لگا اور تبلیغ کے ساتھ آپ کی ادارتی ذمہ داریوں کا بھی اضافہ ہو گیا مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا تھا۔مولانا درد صاحب نے اس کی تکمیل کی طرف توجہ دی۔چنانچہ آپ نے ۱۹۲۵ء میں چند دوستوں کے ساتھ دعائیں کیں اور مسجد کی بنیاد میں کھودی گئیں اور اس کی تعمیر ایک انجینئر نگ کمپنی کو سپرد کر دی گئی۔مسجد کی تکمیل ۱۹۲۶ء میں ہوئی اور اس کا افتتاح ۳ور اکتوبر ۱۹۲۶ء کو خان بهادر شیخ عبد القادر صاحب عبد القادر صاحب بی۔اے بیرسٹرایٹ لاء کے ہاتھوں ہوا۔اس موقعہ پر پہلی اذان مسجد کے مینار کے پاس مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے نے دی اور مسجد کے پہلے برطانوی موزن ہونے کا شرف ایک نومسلم بلال دانیال ہو کر محل (Mr۔Billal Danial Hawker Nuttal) کو حاصل ہوا۔جو حضرت مولانا درد کے زمانہ میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے۔مسجد کے افتتاح پر دنیا کے اخباروں نے عموماً اور لندن پریس نے خصوصاً بڑے بڑے آرٹیکل لکھے اور چار دانگ عالم میں اسلام اور سلسلہ احمدیہ کی تبلیغی مساعی کی بہت شہرت ہوئی۔۲۲ اپریل ۱۹۲۸ء کو خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب انگلستان کے لئے روانہ ہوئے اور ملک غلام فرید صاحب جولائی ۱۹۲۸ء میں واپس آگئے۔اور ۳/ اگست ۱۹۲۸ء کو ان کی بجائے صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے بھجوائے گئے دو ماہ بعد حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد حضرت خان صاحب فرزند علی صاحب کو چارج دے کر ۲۲ / اکتوبر ۱۹۲۸ء کو قادیان آگئے۔۲۵؍ جولائی ۱۹۳۱ء کو مولوی محمد یار صاحب عارف لندن روانہ ہوئے اور صوفی عبد القدیر صاحب ۱۶/ اگست ۱۹۳۱ء کو واپس آئے۔ان کے بعد حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب د ر د ۲/ فروری ۱۹۳۳ء کو دوباره ولایت بھیجے گئے۔اور حضرت مولوی فرزند علی خان صاحب آپ کو چارج دے کر ۱۰ / اپریل ۱۹۳۴ء کو قادیان تشریف لے آئے۔حضرت خان صاحب فرزند علی صاحب اور مولانا درد صاحب کے دوران قیام کی نمایاں خصوصیت ی تھی کہ ان کے زمانہ میں نہ صرف تبلیغی دائرہ میں وسعت ہوئی۔بلکہ مشن نے مسلمانان عالم کی |INA |