تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 156
تاریخ احمدیت جلد ۴ 148 خلافت ثانیہ کا پہلا سال (جو مارچ ۱۹۱۶ ء میں ہوئی) قریباً ایک درجن انگریز مسلمان ہو چکے تھے۔مشن کے اس ابتدائی دور میں آپ کی تبلیغ زیادہ تر لیکچروں کے ذریعہ ہوئی۔جو انہوں نے مختلف کلبوں اور سوسائٹیوں میں دیئے۔۶ ستمبر ۱۹۱۵ء کو حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب بی۔اے بی ٹی انگلستان تشریف لے گئے حضرت قاضی صاحب پورے چار سال تک وہاں اعلائے کلمتہ اللہ میں مصروف رہے۔پہلی جنگ عظیم کی وجہ سے آپ کو کئی پریشانیوں اور تکالیف کا سامان بھی کرنا پڑا۔مگر آپ نے لٹریچر اور خطوط کے ذریعہ سے اپنی کوششیں برابر جاری رکھیں۔آپ ابھی انگلستان ہی میں تھے کہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے ۱۰ مارچ ۱۹۱۷ء کو روانہ ہو کر اپریل ۱۹۱۷ ء میں ساحل انگلستان پر قدم رکھا۔حضرت مفتی صاحب یہاں کچھ عرصہ قیام فرمانے اور حضرت قاضی صاحب کا ہاتھ بٹانے کے بعد ۱۹۲۰ء کے شروع میں امریکہ تشریف لے گئے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے چودھری فتح محمد صاحب سیال حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کے ساتھ دوبارہ ۱۵/ جولائی ۱۹۱۹ء کو عازم انگلستان ہوئے اور ۶ / اگست ۱۹۱۹ء کو لندن پہنچے۔چودھری صاحب نے گزشتہ تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تبلیغ کے کام میں اور زیادہ وسعت دی اور مسجد کے لئے بڑی جدوجہد کے بعد لندن کے محلہ پیٹی ساؤتھ فیلڈ میں ایک یہودی سے زمین کا ایک قطعہ مع مکان بائیس سو تئیس پونڈ میں خرید لیا۔یہ اگست ۱۹۲۰ء کا واقعہ ہے اسی ماہ مولوی مبارک علی صاحب بی۔اے بنگالی قادیان سے انگلستان کے لئے روانہ ہوئے۔اور ۱۸/ ستمبر ۱۹۲۰ء کو لندن پہنچے۔چند ماہ بعد حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر فروری ۱۹۲۱ء میں نائجیر یا روانہ ہو گئے اور چوہدری صاحب مولوی مبارک علی صاحب کو چارج دے کر ستمبر ۱۹۲۱ء میں قادیان واپس آگئے۔اس کے جلد بعد ہی مولوی مبارک علی صاحب برلن چلے گئے۔آپ کے بعد سردار مصباح الدین صاحب (حضرت مولانا نیر صاحب کی واپسی انگلستان تک) مشن کے انچارج رہے اور قریباً سوا دو سال کے بعد ۲۴ / نومبر ۱۹۲۴ء کو حضرت مصلح موعود کے مقدس قافلہ کے ساتھ قادیان آئے آپ قادیان سے اگست ۱۹۲۲ء میں ولایت گئے تھے۔حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر نے میرالیون گولڈ کوسٹ (غانا) اور نائجیریا مشن قائم کرنے کے بعد واپس آکر لندن مشن کا چارج لے لیا۔11 مئی ۱۹۲۴ء کو جناب ملک غلام فرید صاحب ایم اے (جو د سمبر ۱۹۲۳ء میں برلن روانہ کئے گئے تھے ) لندن آگئے اور حضرت نیر صاحب کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کے دور میں حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنفس نفیس ویمبلے کا نفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے اور اپنے دست مبارک سے ۹ار