تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 154
تاریخ احمدیت جلد ۴ لیا۔یہ 146 خلافت عثمانیہ کا پہلا سال بائبل پر حیرت انگیز دستگاہ تھی اور لاطینی اور عبرانی کے بھی خوب واقف تھے) قادیان آئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کئی روز تک ان سے تبادلہ خیالات فرماتے رہے۔حضور نے ان کے سوالوں کے ایسے تسلی بخش جوابات دیئے کہ بالآخر انہوں نے آپ کے دست مبارک پر اسلام قبول کر -- یہ صاحب شیخ عبد الخالق صاحب تھے جنہوں نے بعد کو تقریری اور تحریری طور پر عیسائیت کے رو اور اسلام کی تائید میں خوب کام کیا۔آخری عمر میں سالہا سال تک دار الواقفین اور جامعتہ المبشرین کے طلباء کو پڑھاتے بھی رہے۔عیسائی ہونے کے ایام میں ان کی زندگی نہایت آرام میں گزرتی تھی۔کیونکہ ان کو اچھی تنخواہ ملتی تھی۔لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد باوجود اس کے کہ عیسائیوں کی طرف سے ان کو بہت کچھ لالچ دیا گیا وہ واپس نہیں گئے اور قادیان میں دھونی رما کر بیٹھ گئے اور استقامت کا ایک بے نظیر نمونہ دکھایا۔جماعتی انتظام چلانے کے لئے نئے کارکنوں کا تقرر انجمن کے کچھ نمبروں کی خلافت سے علیحدگی اور بعض دو سرے وجوہ کی بناء پر جماعتی نظم و نسق چلانے کے لئے بھاری تبدیلی کرنی پڑی۔چنانچہ صدر انجمن احمدیہ کے سیکرٹرکی اور افسر اشاعت اسلام مولوی شیر علی صاحب لمقرر ہوئے۔حضرت مولوی محمد الدین صاحب ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر بنا لئے گئے۔بیت المال اور لنگر خانہ کا انتظام حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے سپرد ہوا۔مدرسہ احمدیہ کی نظامت اور اخبار " الفضل " کی ادارت قمر الا نبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو سونپی گئی۔آپ ہائی سکول کے سٹاف میں بھی شامل کئے گئے اور پھر جلد ہی ریویو آف ریلیجز کی ادارت کے فرائض بھی انجام دینے لگے۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت میر محمد الحق صاحب ( بحیثیت علماء سلسلہ) اور چوہدری نصر اللہ خان صاحب (مشیر قانونی کی حیثیت سے) مجلس معتمدین کے ممبر نامزد ہوئے اور حضرت میر ناصر نواب صاحب سب کمیٹی تعمیر کے سیکرٹری !! ایک پُر شوکت مکتوب انہی دنوں حضور نے اپنے قلم سے بابو عبد الحمید صاحب ریلوے آڈیٹر کے نام سیالکوٹ کے پتہ پر ایک پُر شوکت مکتوب تحریر فرمایا جس میں آپ نے اس وقت کے پیش آمدہ حالات کو نہایت درد انگیز الفاظ میں لکھا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جماعت پر رحم فرمائے یہ لوگ کس طرف جا رہے ہیں۔خدا کے کام کوئی نہیں روک سکتا۔اور کوئی نہیں روک سکتا۔اگر میرا قیام خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ہے۔اور مجھے اس کے فضل سے یقین ہے کہ ایسا ہی ہے تو یہ لوگ خواہ کس قدر ہی مخالفت کریں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ناکام و نامراد