تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 153 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 153

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 145 خلافت ثانیہ کا پہلا سال مولوی محمد علی صاحب کو قادیان چھوڑنے سے باز رکھنے کی کوشش حضرت بہ خليفة المسيح الثانی ایدہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں۔”قادیان کی جماعت میں سے سب کے سب سوائے چار پانچ آدمیوں کے میری بیعت میں شامل تھے اور اب قادیان میں کسی کامیابی کی امید یہ لوگ دل سے نکال بیٹھے تھے۔۔۔مولوی محمد علی صاحب کے قادیان سے جانے کے لئے عذر تلاش کئے جانے لگے اور آخر ایک دن مجھے اطلاع دی گئی کہ مولوی صاحب جمعہ کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے کہ تین چار بچوں نے (جو پانچ سات سال کی عمر کے تھے) ان پر کنکر پھینکنے کے ارادہ کا اظہار کیا۔میں نے اس پر درس کے وقت سب جماعت کو سمجھایا کہ گو بچوں نے ایسا ارادہ ظاہر کیا ہے۔مگر پھر ایسی بات سنی گئی۔تو میں ان کے والدین کو ذمہ دار قرار دوں گا اور سختی سے سزا دوں گا۔بعد میں میں نے سنا کہ مولوی محمد علی صاحب کو یہاں خوف ہے اس لئے وہ قادیان سے جانا چاہتے ہیں۔میں نے ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو ایک خط لکھ کر دیا کہ آپ مولوی محمد علی صاحب کے پاس جاویں اور ان کو تسلی دیں کہ آپ کسی قسم کا فکر نہ کریں۔میں آپ کی حفاظت کا ذمہ دار ہوں اور آپ قادیان نہ چھوڑیں۔خط میں بھی اسی قسم کا مضمون تھا۔خط کا جواب مولوی محمد علی صاحب نے یہ دیا کہ یہ کب ہو سکتا ہے کہ میں قادیان چھوڑ دوں۔میں تو صرف گرمی کے سبب پہاڑ پر ترجمہ قرآن کا کام کرنے کے لئے جاتا ہوں۔اور اس کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح اول کی زندگی ہی میں میں نے انجمن سے رخصت لے رکھی تھی۔اور میرا شکریہ بھی ادا کیا کہ میں نے ان کی ہمدردی کی میں نے صرف اس قدر کافی نہ سمجھا۔بلکہ اس کے بعد ان سے اس مضمون کے متعلق زبانی گفتگو کرنے کے لئے خود ان کے گھر پر گیا۔میرے ہمراہ خان محمد علی خاں صاحب اور ڈاکٹر رشید الدین صاحب تھے جب ہم وہاں پہنچے تو ابتد اگر کچھ ذکر ترجمہ قرآن کے متعلق ہوا۔اس کے بعد میں نے اس امر کے متعلق کلام کا رخ پھیرا جس کے لئے میں آیا تھا۔کہ فورا مولوی محمد علی صاحب نے ایک شخص۔۔۔میاں بگا کو آواز دی کہ ادھر آؤ اور اس سے ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں۔جب میں نے دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب میاں بگا سے کلام ختم نہیں کرتے تو ناچار اٹھ کر چلا آیا۔اس کے بعد مولوی صاحب قادیان سے چلے گئے اور قریباً تین ہزار روپیہ کا سامان کتب و ٹائپ رائٹر وغیرہ کی صورت میں ترجمہ قرآن کے نام سے اپنے ساتھ لے گئے " - الخ (یہ ۲۰/ اپریل ۱۹۱۴ ء کا واقعہ ہے)۔۔۔۔۔to ۱۳/ اپریل ۱۹۱۴ء کو پشاور مشن ایک فاضل مسیحی سے گفتگو اور اس کا قبول اسلام کے ایک فاضل سیمی رجنہیں