تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 155 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 155

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 147 خلافت ثانیہ کا پہلا سال رہیں گے۔خود ارایه کام کوئی نہیں روک سنگا ان کو گی نہیں رکے اردک ملنا اگر میرا نام امد ما خد ا ا ا ا ا ا ا ایرانی است ہے اور یو ای کے نام سے یقینی ہے کہ یہ یہی ہے تو یہ اور خدا و تقدیر و یا افت کریں اللہ تھی لے لیا فصل لیے ناکام ونامزاور نیلے افسوس کہ وہ تلوار جو غیروں پر چلنی تھی اپنوں پر چلانی پڑی۔اور وہ زور جو غیروں کے مقابلہ پر خرچ کرنا تھا اپنوں پر خرچ کرنا پڑا۔بہتر ہو تا اگر یہ نہ ہوتا۔مگر اللہ تعالیٰ کے نشانات کیونکر ظاہر ہوتے۔کس طرح ہو سکتا تھا کہ سوئی ہوئی جماعت پھر جاگتی۔اگر اس طرح شور نہ پڑتا۔۔۔سب احباب کو تاکید کریں کہ دعاؤں سے کام لیں اور نفسانیت کو ترک کر دیں ایسا نہ ہو کہ ہماری غلطیوں سے خدا کے فضل کے دروازے بند ہو جائیں جس قدر جانیں ہو سکیں بچانے کی کوشش کریں۔اللہ تعالٰی آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔خاکسار مرزا محمود احمد" احمدیہ دار التبلیغ لنڈن حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال اس پہلے بیرونی مشن کی بنیاد گو جولائی ۱۹۱۳ء میں رکھ چکے تھے لیکن اس کا مستقل اور ممتاز صورت میں قیام دراصل اپریل ۱۹۱۴ میں ہوا۔جب کہ آپ دو کنگ چھوڑ کر لندن تشریف لے آئے۔اور یہاں کرائے کے ایک مکان کو مرکز بنا کر تبلیغ اسلام کا کام شروع کر دیا۔پہلا شخص جو آپ کے ہاتھ پر اسلام میں داخل ہوا ایک صحافی کو ریو (MR۔CORIO نامی تھا۔چودھری صاحب کی واپسی تک