تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 137
تاریخ احمدیت جلد ۴ 129 خلافت ثانیہ کا پہلا سال NA فاش دے دی ہے " II - اس انقلاب کے بعد جمہوریت کے دعویداروں نے یہ کہنا شروع کر دیا۔"کثرت کوئی چیز نہیں " بحالیکہ حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی موجود ہے۔کہ " میں تیرے خالص اور ولی محبوں کا گردہ بھی بڑھاؤں گا۔اور ان میں کثرت بخشوں گا"۔عقائد و نظریات میں حیرت انگیز تبدیلی خلافت سے انحراف کا سب سے خطرناک نتیجہ یہ رونما ہوا کہ غیر مبایعین کے عقائد و نظریات میں ایک طوفان اٹھا جو جماعت کے اجماعی ملک کو (جس کا اقرار وہ خود بھی وقتا فوقتا کرتے آرہے تھے) بہالے جانے کا باعث ہوا۔مثلاً ا اختلاف کے نمودار ہونے تک انہیں مسلم تھا کہ "ہم ایک نبی کے سلسلہ کے ممبر ہیں "۔بلکہ اختلاف کے بعد بھی وہ یہ نظریہ رکھتے تھے۔کہ "میرزا صاحب کی اولاد میں سے ایک نبی ہو گا۔مگر بعد میں خود حضرت مسیح موعود کی نبوت سے یکسر انکار کر دیا۔بلکہ جہاں اپنے لیڈروں کو ” اولیاء اللہ " اور مجدد" قرار دیا۔وہاں حضرت مسیح موعود کا مقام یہ تجویز کیا کہ حضرت صاحب از روئے الہام حدیث کے مخصوص علماء کی صف میں کھڑے ہیں "۔" حضرت مسیح موعود کے اہل بیت کے بارے میں شروع میں ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ”اس میں کسی ایماندار کو کلام ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب خدا کے مامور اور برگزیدہ کے فرزند صاحب علم " صاحب عفت ، صالح اور نہایت نیک اطوار اور ائمہ الہدی ہونے کے ہر طرح قابل ہیں اور یہ سب فرزند بلاشبہ روحانی اور جسمانی دونوں معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعود کی آل ہیں۔اور ان الله معک و مع اهلک کے الہام کے پورے مصداق ہیں۔لیکن بعد کو پورے خاندان مسیح موعود کو گمراہ قرار دینے لگے۔شروع شروع میں خصوصاً حضرت سید نا محمود کی بزرگی اور پاکیزگی روح پر غیر مبایعین شہادت دیتے تھے۔”پیارے ناظرین! ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم حضرت صاحبزادہ صاحب کو اپنا ایک بزرگ اور امیر اور لمجاو مادٹی سمجھتے ہیں۔اور ان کی پاکیزگی روح اور بلندی فطرت اور علو استعداد اور روشن جو ہری اور سعادت جیلی کو مانتے ہیں اور دل سے ان سے محبت کرتے ہیں۔۔۔صرف اعتقاد میں فرق ہونے کی وجہ سے ہم ان سے بیعت نہیں کر سکتے " خود مولوی محمد علی صاحب شروع میں لکھتے ہیں کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ میں صاحبزادہ صاحب کی عزت کرتا ہوں وہ میرے آقا کے صاحبزادے ہیں اگر میں ان کی عزت و احترام کو ملحوظ نہ رکھوں تو نمک LL