تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 138 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 138

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ ZA 130 اسال حرامی ہو گی۔مگر جلد ہی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات پر اس بے باکی سے حملے کئے گئے کہ انکار خلافت کی پوری تحریک آپ کی مخالفت کے لئے وقف ہو گئی۔" پغام صلح" کے مضامین پڑھئے ان میں حضرت خلیفہ ثانی کو نعوذ باللہ "یزید"۔"حسن بن صباح " اور " ڈوئی " تک سے شیعہ دی گئی ہے۔آہ! ابتداء کیا تھی اور انتہاء کیا ہے فانالله وانا اليه راجعون۔پہلے تسلیم کیا جاتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کی موجودہ اولاد میں سے ہی ایک فرزند مصلح موعود ہو گا مگر پھر یہ عقیدہ بنالیا گیا کہ وہ تیسری چوتھی صدی میں آئے گا۔اور اس خیال کی بنیاد اپنے اجتہاد پر رکھی بحالیکہ " حجت صرف الہام ہو سکتا ہے "- - قیاس و خیال نہیں۔۵ امیر غیر مبایعین جناب مولوی محمد علی صاحب کا پہلا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیح کی پیدائش ایک ایسے اعجازی رنگ میں ظاہر ہوئی کہ جس میں باپ کا دخل نہ ہوا۔اب جو اختلاف ہوا تو خود مولوی صاحب موصوف نے اپنی انگریزی دارد و تغیر میں مسیح کی بن باپ ولادت سے انکار کر دیا۔- قادیان کو چھوڑنے کے بعد ایک عرصہ تک یہ یقین دلاتے رہے کہ ”ہمارا تعلق نہ تو سلسلہ سے منقطع ہو سکتا ہے اور نہ قادیان سے اور نہ ہی اس مقدس انسان کے خاندان سے جس کے ہم خادم ہیں۔لیکن جلد ہی یہ صورت بھی بدل گئی اور قادیان کی عظمت کی بجائے احمد یہ بللہ نگس " کے تقدس نے جگہ لے لی۔اور کہا جانے لگا۔" جب قادیان میں حضرت مولانا نور الدین صاحب کی وفات کا حادثہ پیش آیا جس کے ساتھ ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا علم و حکمت کے تمام سوتے وہاں خشک ہو کے رہ گئے۔حضرت امیر ایدہ اللہ تمام خزانوں کو سمیٹ کر لاہور تشریف لے آئے اور احمد یہ بلڈ نگس کی سرزمین کو آبسایا " - یہ کھلا مذاق حضرت مسیح موعود کے اس کلام سے تھا کہ۔زمین قادیاں اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے ہاں یہ وہی قادیان تھا جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک بابرکت مقام قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ " خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے "۔ے۔جناب مولوی محمد علی صاحب قادیان میں کئی آیتوں کے جو معنے کیا کرتے تھے لاہور میں آکر اس کے خلاف کرنے لگے۔مثلاً قادیانی زندگی میں وہ آیت اهدنا الصراط المستقیم کی یہ تغییر فرماتے تھے که۔۔۔" مخالف خواہ کوئی ہی معنے کرے مگر ہم تو اسی پر قائم ہیں کہ خدا نبی پیدا کر سکتا ہے۔۔۔مگر چاہئے مانگنے والا" مگر لاہوری زندگی میں یہ نظریہ قائم کیا کہ "اگر اهدنا الصراط المستقیم) کو حصول نبوت کی دعا مانا جائے تو ماننا پڑے گا کہ تیرہ سو سال میں کسی مسلمان کی دعا قبول نہ ہوئی۔پھر یہ لکھا۔" مقام نبوت