تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 136
تاریخ احمدیت جلد ۴ 128 خلافت ثانیہ کا پہلا سال محض " اشاعت اسلام" کے لئے فنڈ کا جمع کرتا ہے۔جو نئی وصایا کی شکل میں اکٹھا کیا جائے گا۔مگر یہ تحریک بھی زیادہ دیر تک نہ چل سکی۔چنانچہ جناب مولوی محمد علی صاحب نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا۔”جماعت (غیر مبایعین) نے الوصیت کے عملی حصہ کو اختیار کرنے میں کمزوری دکھلائی اور اس کی وجہ سے خود کمزور ہو گئی اس بارے میں سب سے زیادہ قصور داردہ شخص ہے جو اس وقت تمہارے سامنے کھڑا ہے۔گناہ کے اس احساس کے ساتھ جو کہ ایک بد ترین گناہگار کو ہو سکتا ہے۔میں اس قصور اور کو تاہی کا اقرار کرتا ہوں کہ سب سے زیادہ کمزوری میں نے دکھلائی ہے۔لا مرکزیت کا شکار منکرین خلافت کے ایک سابق صدر نے کہا۔”لاہور میں کام شروع کئے ہوئے ہمیں ۳۷ سال گزر چکے ہیں اور ہم اس چار دیواری سے باہر نہیں نکلے بحثیں ہوتی ہیں کہ ہماری ترقی میں کیا روک ہے بعض کہتے ہیں جماعت قادیان نے دعوئی نبوت کو حضرت امام زمان کی طرف منسوب کر کے اور دوسرے تمام مسلمانوں کو کافر کہکر ایک بہت بڑی روک پیدا کر دی ہے۔لیکن ان اعتقادات کے باوجود ان کی اپنی ترقی تو بد ستور ہو رہی ہے۔۔۔۔۔میرے خیال میں ہماری ترقی کے رکنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا مرکز دلکش نہیں۔۔۔بہت سے نوجوان ہمارے سامنے ہیں جن کے باپ داد ا سلسلہ پر عاشق تھے لیکن ان نوجوانوں میں وہ روح آج مفقود ہے" کثرت کا قلت میں بدلنا ادا ئل میں غیر مبایعین پراپیگنڈا کیا کرتے تھے کہ " ابھی بمشکل قوم کے بیسویں حصہ نے خلیفہ تسلیم کیا ہے "۔بلکہ وہ یہاں تک کہا کرتے تھے کہ افسوس مؤیدین خلافت کی تعداد کتنے کو دو ہزار بتائی جاتی ہے لیکن دراصل ایسے مؤیدین کی تعداد جو موجودہ خلافت کے مضرات سے باخبر ہوں اس قدر کم ہے کہ جن کی تعداد چالیس مومن تو ایک طرف رہے اس کے ہندسہ تک بھی نہیں پہنچ سکتی۔اور وہ بھی اپنے ہی گھر کے آدمی بجز۔۔۔۔۔دو چار اصحاب کے "۔الخ ان اقتباسات سے ظاہر ہے کہ ۱۹۱۴ء کے شروع میں غیر مبائع اصحاب مبایعین کو اس لئے حق پر نہیں سمجھتے تھے کہ ان کی تعداد بہت کم ہے لیکن تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ان کی توقعات کے سراسر خلاف ان کی کثرت اقلیت میں بدل گئی۔چنانچہ " عصر جدید " نے لکھا۔” وہ گروہ جو خواجہ کمال الدین صاحب کے ہم خیال ہو کر دوسرے مسلمانوں سے بظاہر مل کر کام کرنا چاہتا ہے اور جس میں بہت سے تعلیم یافتہ احمدی لاہور وغیرہ کے شامل ہیں۔ان کو صاحبزادہ بشیر محمود کے فریق نے تقریباً ہر جگہ شکست