تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 135
احمدیت جلد۔127 خلافت ثانیہ کا پہلا سال کرنا شروع کیا ہوا ہے۔یہ نوٹس جاری کر کے جماعت کے بنیادی نظام پر کلہاڑی چلائی گئی اور امیر جماعت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا گیا ہے "۔اسی طرح ان کی بیگم صاحبہ نے بھی ایک خط میں لکھا کہ مفسدوں نے مخالفت کا طوفان برپا کر دیا اور طرح طرح کے بیہودہ الزام لگائے۔یہاں تک بکواس کی کہ آپ نے احمدیت سے انکار کر دیا ہے اور انجمن کا مال غصب کر لیا ہے۔" ان تفکرات نے آپ کی جان لے لی۔سب ڈاکٹر یہی کہتے تھے کہ اس غم کی وجہ سے حضرت مولوی صاحب کی جان گئی"۔ایک وصیت لکھ کر شیخ میاں محمد صاحب کو بھیج دی کہ یہ سات آدمی جو اس فتنہ کے بانی ہیں۔۔۔اور جن کا سرغنہ مولوی صدر الدین ہے میرے جنازہ کو ہاتھ نہ لگائیں اور نہ ہی نماز جنازہ پڑھا ئیں چنانچہ اس پر عمل ہوا۔مگر اس کے بعد مولوی محمد علی صاحب کی وصیت پس پشت ڈال کر مولوی صدر الدین صاحب ہی امیر قوم " منتخب کر لئے گئے۔بحالیکہ انجمن اشاعت اسلام کے بعض چیدہ ممبران کھلے طور پر یہ رائے ظاہر کر چکے تھے۔کہ مولوی صدر الدین صاحب کو ” حکومت کا شوق ہے سوائے اس کے کسی بات پر رضامند نہیں ہو سکتے کہ تمام اختیارات ان کو دے دیئے جائیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ زندگی بھر ہر ایک سے بر سر پیکار رہے وہ اقتدار کے بھوکے ہیں۔جب تک وہ اسے حاصل نہ کر لیں گے جماعت میں فتنہ و فساد ختم نہیں ہو سکتا۔مگر جس روز جماعت نے یہ قدم اٹھایا تو وہ دن جماعت اور تحریک احمدیت ( یعنی لاہوری تحریک - ناقل) کے خاتمہ کا دن ہو گا"۔نظام "الوصیت" سے قطع تعلق غیر مبائع اصحاب نے قادیان سے نکل جانے کے بعد نظام "الوصیت" سے جو خدائی بشارتوں کے مطابق سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم فرمایا تھا ہمیشہ کے لئے علیحدگی اختیار کرلی۔پہلے تو انہوں نے اپنی وصیتیں منسوخ کر دیں۔پھر بہشتی مقبرہ کے ساتھ ایک علیحدہ قبرستان بنانے کی تجویز کر کے یہ اعلان کیا کہ " صاحبزادے صاحب نے ہمارے خلاف بہت سخت فتاری شائع کئے ہیں اور زندگی میں موجودہ حالات میں ہمارا قادیان میں رہنا نا ممکن ہے اور وفات کے بعد بھی مقبرہ بہشتی میں جگہ ملنے کی ان کی طرف سے امید منقطع ہے۔۔۔حضرت مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام) نے الوصیت میں مقبرہ کی زمین کی توسیع کی ہدایت فرمائی ہے اور خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب کے۔۔۔۔۔خاص طور پر مشکور ہیں کہ انہوں نے ہم کو اپنے حصہ میں سے مقبرہ بہشتی کے متصل زمین اس غرض کے لئے عنایت کر دی ہے کہ ہم مرنے کے بعد تو قادیان میں جگہ پاسکیں۔غیر مبائع اصحاب نے اسے محض " خاندانی قبرستان " قرار دینا شروع کر دیا اور یہ مسلک اختیار کیا کہ اصل مقصود تو