تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 134 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 134

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ تذکرہ کیا جاتا ہے۔126 خلافت ثانیہ کا پہلا سال خود ساختہ خلافتوں کا خاتمہ غیر مبایعین نے حضرت خلیفہ اول کی وفات پر سلسلہ خلافت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے پورا زور لگایا۔اور اس امر کے لئے کوشش کا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا کہ حضرت خلیفہ اول نے مطابق الوصیت سلسلہ خلافت کو قائم رکھنے کے ۵۱ لئے اپنی بار بار کی تشریحات پر بس نہ کر کے اپنے ایک جانشین کی جو وصیت فرمائی ہے اس کی تکمیل نہ ہو سکے مگر جب تقدیر الہی کے سامنے ان کی کچھ نہ چلی اور بفضلہ تعالی خلافت قائم ہو کر رہی تو اپنے اس پروپیگنڈا کو حضرت مولوی صاحب (خلیفہ اول) کے بعد کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہئے بالائے طاق رکھ کر اپنی طرف سے تین خلفاء مقرر کر دیئے۔(۱) مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری (۲) سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی (۳) خواجہ کمال الدین صاحب - مقدم الذکر بزرگ بعد میں خلافت ثانیہ کی بیعت میں آگئے۔اور خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنا مشن احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور سے منقطع کر لیا۔خواجہ صاحب مرحوم کو آخری عمر میں ایک خواب دکھایا گیا۔کہ تخت کے سامنے ملزموں کے کھڑا کرنے کی جگہ تھی میرے ہمراہ حضرت مولوی (محمد علی) صاحب تھے۔۔۔۔ایسا معلوم ہو تا تھا کہ ہم پر کوئی مقدمہ ہے اور اس عدالت عالیہ میں ہم بحیثیت ملزم کھڑے ہیں۔۔۔۔۔۔میں نے سمجھا کہ صاحب عرش نے کوئی حکم دے دیا ہے جس کے سنانے کے لئے حضرت مرزا صاحب اٹھے۔وہ گو خود خوف کی حالت میں تھے۔مگر انہوں نے نہایت غضب ناک آواز میں حکم سنایا۔خواجہ صاحب نے اپنی کتاب "مسجد و کامل " میں یہ خواب شائع کی۔اور المجمن اشاعت اسلام کے تبلیغی طریق کار پر اعتراضات کئے۔جس کے جواب میں مولوی محمد علی صاحب کو ایک لمبا چوڑا مضمون لکھنا پڑا۔جناب مولوی محمد علی صاحب کے خلاف بغاوت مولوی محمد علی صاحب کا (جن کے لئے "مجد والدین" کا الهام ۵۴ اختراع کیا گیا) کہنا ہے کہ "جس وقت ہم علیحدہ ہوئے ہیں مجھے بھی الہام ہو ا تھا و للاخرة خير لك من الاولى " - یعنی آئندہ زندگی پہلے سے بہتر ہو گی۔لیکن اس کے برخلاف ہوا یہ کہ ان کی آخری زندگی نہایت پریشانیوں تلخیوں اور مصیبتوں میں گزری۔جس کی تفصیل انہوں نے "میری زندگی کا ایک دردناک ورق میں بیان فرمائی۔اور پھر اپنی ایک چٹھی (مطبوعہ ۲۵/ جولائی ۱۹۵۱ء) میں یہ لکھا کہ " جب سے میں گزشتہ بیماری کے حملہ سے اٹھا ہوں اس وقت سے یہ دونوں بزرگ ( ڈاکٹر غلام محمد صاحب اور مولوی صدر الدین صاحب ناقل) اور شیخ عبد الرحمن صاحب مصری میرے خلاف پراپیگنڈا میں اپنی پوری قوت خرچ کر رہے ہیں اور ہر ایک تنکے کو پہاڑ بنا کر جماعت میں ایک فتنہ پیدا ۵۶