تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 133 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 133

جلد ۴ 125 خلافت عثمانیہ کا پہلا سال کے سفر ولایت کے ایام میں عارضی ممبر مقرر کر لیا تھا۔بہر حال اس نقشہ سے ظاہر ہے کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے وقت بھی صدر انجمن احمدیہ کی اکثریت خلافت کی مؤید تھی۔یہی وجہ ہے کہ منکرین خلافت اس بات پر مجبور ہوئے کہ صدرا انجمن احمدیہ سے۔۔۔۔۔۔ہاں وہی صد را انجمن احمدیہ جو ان کی اس قدر منظور نظر تھی۔۔۔۔قطع تعلق کر کے اس کی جگہ لاہور میں ایک علیحدہ انجمن قائم کرلی۔گویا حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد ان اصحاب کا صرف خلافت سے ہی قطع تعلق نہیں ہوا۔بلکہ صدر انجمن احمدیہ سے بھی قطع تعلق ہو گیا اور وہ مرکز سلسلہ کو چھوڑ کر لاہور چلے گئے۔اور وہاں اپنی ایک جداگانہ انجمن بنالی جس کا نام انجمن احمد یہ اشاعت اسلام ہے۔جس وقت یہ اصحاب قادیان کو چھوڑ کر جارہے تھے اس وقت ان کے تعمیراتی پروگرام نے صدر انجمن احمدیہ کے خزانے کو بالکل خالی کر رکھا تھا اور صرف چند آنوں کے پیسے باقی تھے اور دوسری طرف یہ لوگ اس قدر خود بینی میں مبتلا تھے کہ سمجھتے تھے کہ ہمارے چلے جانے سے یہ سار انتظام درہم بر اہم ہو جائے گا۔اور ہمارے بعد کوئی شخص اس نظام کو چلا نہیں سکے گا۔چنانچہ ان کے ایک معزز رکن نے قادیان سے جاتے ہوئے سلسلہ کی عمارات کی طرف اشارہ کر کے کہا۔کہ اب یہاں الو بولیں گے۔یہ کلمہ اس انتہائی نخوت کا ایک گندہ ابال تھا جو ان لوگوں کے دماغوں میں غلبہ پائے ہوئے تھی۔اور اس سے اس بے قمیتی پر بھی روشنی پڑتی تھی جس کا یہ لوگ شکار ہو رہے تھے۔کیونکہ خواہ وہ قادیان سے جارہے تھے مگر بہر حال قادیان ان کے روحانی پیشوا اور سلسلہ احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود کا مولدی مسکن و مدفن تھا۔اور سلسلہ کی تمام روایات قادیان سے وابستہ تھیں۔پس اگر ان لوگوں کے دل میں مرکز سلسلہ کی ذرا بھی محبت ہوتی تو ان کے منہ سے قادیان کے متعلق اس قسم کے الفاظ ہر گز نہ نکلتے۔کہتے ہیں کہ محبوب کی ملی کا کتا بھی پیارا ہوتا ہے مگر ان لوگوں نے اپنے محبوب کے مکانوں اور ہزاروں خدائی نشانوں کی جلوہ گاہ عمارتوں اور بیسیوں شعائر اللہ کو محبوب کی گلی کے کتے کے برابر بھی حیثیت نہیں دی۔مگر اس کا کیا پھل پایا ؟ آہ یہ ایک نہایت تلخ خیال ہے جس کے تصور سے بھی دل میں درد اٹھتا ہے آخری الفاظ میں نہایت درد دل سے جس تلخ اور المناک تحریک انکار خلافت کا انجام حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ہم غیر معمولی اختصار کے ساتھ اس پر اچٹتی ہوئی نظر ڈال کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔کیونکہ ہم اس سنہری دور میں سے گزر رہے ہیں جس کا ہر آنے والا دن نئی سے نئی برکات و فتوحات کو لے کر طلوع کر رہا ہے۔تحریک انکار خلافت کی پوری تاریخ عبرتوں کا مرقع ہے بطور نمونہ چند ضروری حقائق و شواہد کا