تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 130
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 122 خلافت ثانیہ کا پہلا سال حضرت خليفة ابتدائی کشمکش اور جماعت کی اکثریت کا خلافت کے جھنڈے تلے اجتماع المسیح الثانی ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو بروز ہفتہ بعد نماز عصر مسند خلافت پر متمکن ہوئے تھے اس وقت قادیان میں قریب دو ہزار مردوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اس تعداد میں ایک حصہ ان لوگوں کا بھی شامل تھا۔جو حضرت خلیفہ اول کی بیماری کے آخری ایام میں آپ کی وفات کی خبر سن کر باہر سے آئے ہوئے تھے۔مگر دوسری طرف اس وقت قادیان میں ہی ایک حصہ ایسا بھی موجود تھا جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی بیعت سے منحرف رہا۔اس حصہ میں زعماء منکرین خلافت اور ان کے رفقاء ہر دو شامل تھے۔ہر چند کہ ان لوگوں کی تعداد 2 بہت قلیل تھی۔یعنی اس وقت قادیان میں ان کی مجموعی تعد اد دو تین فی صدی سے زیادہ نہیں تھی مگر چونکہ ان میں بعض ذی اثر اصحاب شامل تھے مثلا مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے جو صدر انجمن احمدیہ کے مستقل سیکرٹری اور ریویو آف ریلیجز کے ایڈیٹر تھے۔اور جماعت میں اچھا اثر رکھتے تھے اور مولوی صدر الدین صاحب بی۔اے جو تعلیم الاسلام ہائی سکول کے مستقل ہیڈ ماسٹر اور صدر انجمن احمدیہ کے قائم مقام سیکرٹری تھے اور اسی طرح بعض اور لوگ جو صدر انجمن احمدیہ کے مختلف صیغہ جات میں کام کرتے تھے اس گروہ میں شریک تھے اس لئے باوجود تعداد کی کمی کے ان لوگوں کے اثر کا دائرہ کافی وسیع تھا۔مگر سب سے زیادہ فکر جماعت کے اس سواد اعظم کے متعلق تھی جو قادیان سے باہر پنجاب وہندوستان کے مختلف حصوں میں بالکل تاریکی کی حالت میں پڑا تھا۔پس خلافت کے انتخاب کے بعد پہلا کام یہ تھا کہ جماعت کے ان منتشر دھاگوں کو سمیٹ کر پھر ایک رسی کی صورت میں جمع کر لیا جاوے۔چنانچہ اس کی طرف فوری توجہ دی گئی اور اخباروں اور رسالوں اور اشتہاروں کی غیر معمولی اشاعت a کے علاوہ جماعت کے اہل علم لوگوں کو ملک کے چاروں اطراف میں پھیلا دیا گیا۔تاکہ وہ بیرونی جماعتوں کو حالات سمجھا کر اور اختلافی امور کی تشریح کر کے اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم بنا کر خلافت کے ہاتھ پر جمع کرنے کی کوشش کریں۔اور گو خدا کے فضل اور رحم سے جماعت کی کثرت نے ایک غیر معمولی سنبھالا لیکر مرکز کی اپیل پر مخلصانہ لبیک کہا اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی بیعت فورا قبول کر لی۔مگر چونکہ منکرین خلافت کی طرف سے بھی پُر زور پراپیگنڈا جاری تھا اس لئے جماعت کا ایک معتدبہ حصہ ایسا بھی تھا جسے سخت کوشش اور انتہائی جدوجہد کے ساتھ راہ راست پر لانا پڑا۔یہ ایک ہولناک نظارہ تھا اور گویا ایک قسم کی طولانی رسہ کشی تھی۔جس میں کئی موقعے خطرے کے پیدا ہوتے رہے مگر بالآخر چپہ چپہ اور بالشت بالشت اور ہاتھ ہاتھ خدائی فوج دشمن کے کیمپ میں دھنستی چلی گئی اور چند ماہ کی شب و روز کی جنگ کے بعد خدا نے اپنے روحانی خلیفہ !